Menu
Top Rated Posts ....
Search

Haroon ur Rasheed Indirect Response From China on His Viral Leaked Phone Call

Posted By: Saad Aziz on October 17, 2018 | 04:57:04



Haroon ur Rasheed Indirect Response From China on His Viral Leaked Phone Call




ہارون الرشید صاحب کا موقف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سینئر صحافی، کالم نگار اور اینکر ہارون الرشید صاحب کے حوالے سے ایک آڈیو کلپ وائرل ہوا، جو ایک پولیس افسر سے ان کی گفتگو پر مشتمل ہے۔
ہارون الرشید صاحب ان اخبارنویسوں میں سے ہیں، جن سے کئی حلقے شاکی اور ناراض رہتے ہیں۔ مسلم لیگ ن والے ان سے سخت ناراض ہے کہ انہوں نے شریف خاندان کے خلاف ہمیشہ بہت کھل کر سخت لکھا، مولانا فضل الرحمن پر ان کی تنقید سے جے یوآئی کے لوگ ناخوش رہے، ایم ایم اے میں شامل دیگر جماعتوں کےکارکن بھی ان کی بے لاگ تنقید سے زیادہ خوش نہیں ، وہ ان اخبارنویسوں میں سے ہیں، جنہوں نے ہمیشہ بھٹو صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو پر تنقید کی، پیپلزپارٹی والے یہ بات کبھی نہیں بھلا سکتے ۔ تحریک انصاف کے وہ دیرینہ حامی اور سپورٹر رہے، مگر پچھلے چار پانچ برسوں میں کچھ فاصلہ پیدا ہوا، وہ عمران خان کی مختلف پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، تحریک انصاف کی حکومت ان سے اس درجہ ناخوش ہے کہ وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب سے لے کر سینئر صحافیوں سے عمران خان کی ملاقات میں بھی انہیں مدعو نہیں کیا گیا،اگرچہ تحریک انصاف کے حامی حلقے میں ان کی تحریروں کو آج بھی سراہا اور عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ہارون الرشید صاحب کے خلاف جو بھی تحریر یا کلپ ہو، اسے ان کے مخالف سوچ رکھنے والے سیاسی حلقے زور شور سے پھیلاتے ہیں۔ اس آڈیو کو وائرل کرنے میں اس فیکٹر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ہارون الرشید صاحب میڈیا کے ایک وفد کے ساتھ پچھلے تین چار دنوں سے چین ہیں، ارشاد احمد عارف صاحب، سہیل وڑائچ اورمنصور آفاق اور بعض دیگر سینئر صحافی بھی اسی وفد میں ہیں۔ اسی وجہ سے ہارون الرشید صاحب کا اس آڈیو کے حوالے سے موقف سامنے نہیں آ پا رہا۔ آج شام کو ہارون الرشید صاحب کا چین سے فون آیا، انہیں کسی نے فون کر کے اس آڈیو کے بارے میں بتایا ، چین میں واٹس ایپ اور فیس بک پر پابندی ہے، اسی وجہ سے اس آڈیو کو وہ سن نہیں پا رہے، تاہم انہوں نے اس وائرل کلپ پر اپنا نقطہ نظر دیا ہے، نیچے دی گئی سطروں میں ان کا موقف دے رہا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون صاحب کے مطابق انہیں کسی قاری نے بتایا کہ بغداد الجدید تھانہ پولیس، بہاولپور میں کسی بے گناہ شخص کو گرفتار کر کے ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے نمبر لیا اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اور سے بات کی، اس نے کنفرم نہیں کیا، محرر نے بھی گریز کیا، یہ پولیس والا جس سے بات ہوئی، وہ تفتیشی تھا، ہارون صاحب نے اس پر رعب ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور سادہ سے چند الفاظ میں اپنا تعارف کرایا۔ ہارون الرشید صاحب نے وہ آڈیو ابھی سنی تو نہیں، مگر جوزبانی تفصیل انہیں بتائی گئی، اس کے مطابق ان کا خیال ہے کہ پولیس افسر نے دوران گفتگو بدتمیزی کی تھی ، لگتا ہے وہ جملے دانستہ ایڈٹ کر دئیے۔ ہارون صاحب کے بقول ،’’میں اس بدتمیزی پراپنا ٹمپرامنٹ قدرے لوز کر گیا ، جو کہ نہیں کرنا چاہیے تھا ، بلڈ پریشر کے مریض ہونے کی وجہ سے گاہےایسا کمزور لمحہ آ جاتا ہے جب بی پی شوٹ کر گیا اور زبان سے سخت جملہ نکل جائے۔ وہ بھی ایسا ہی کمزور لمحہ تھا، جب جھنجھلاہٹ میں اسے گدھے کا بچہ کہ دیا جو کہ ظاہر ہے نامناسب بات ہے، نہیں کہنی چاہیے تھی، اس کا افسوس ہے۔ مگر اس معاملے میں بڑی اہمیت کا حامل یہ نکتہ ہے کہ پولیس افسر نے ایک بے گناہ شخص کو بغیر پرچہ کاٹے اپنی تحویل میں رکھا ہوا تھا، جب بیلف نے چھاپا مارا ،تو جیسا کہ پولیس کرتی ہے، ہنگامی طور پر پرچہ کاٹ دیا۔‘‘
ہارون الرشید صاحب کہتے ہیں کہ میں نے آئی جی پولیس محمد طاہر سے اس معاملے پر بات کی اور اسے کہا کہ اگر وہ شخص قصور وار ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے، لیکن اگر وہ بے گناہ ہے تو اس ظلم کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ آئی جی نے کہا کہ یہ تو نہایت معقول بات ہے۔ ہارون صاحب کہتے ہیں کہ میں نے کہا پنجاب پولیس میں اصلاحات لانے کے لئے ائن سٹائن جیسا کوئی شخص چاہیے۔ اس پر آئی جی مسکرائے اور بولے کہ رفتہ رفتہ چیزیں بہتر ہوجائیں گی۔
ہارون الرشید صاحب کا کہنا ہے کہ تین چار دن میں چین سے واپسی ہے، واپس آ کر وہ اپنا موقف تفصیل سے بیان کر یں گے اور اس معاملے کی پیروی کریں گے، اگر وہ پولیس افسر درست ہے تو میں ہر سزا کے لئے تیار ہوں اور اگر اس نے ایک بے گناہ معصوم شخص سے زیادتی کی تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔



Comments...
Advertisement





Follow on Twitter

Advertisement


Popular Posts