Who Is Spy In PMLN? Listen From Ataul Haq Qasmi? Is He Right?
Dailymotion
عمرچیمہ کی مسلم لیگ نون کی صفوں میں “مول” کی موجودگی کی خبر کےمعاملے میں سب سے اہم اور معتبر عطاالحق قاسمی کی رائے ہے جنکا نوازشریف سے تعلق کئی دہائیوں پہ محیط ہے۔
— Sardar Nouman (@NoumanFK) October 12, 2019
pic.twitter.com/mcfxrYiiSx
اسلام آباد (عمر چیمہ) پاکستان مسلم لیگ (ن) میں مشتبہ مخبر پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی نظر ہے کیونکہ اس بات کی نشاندہی ہوئی تھی کہ قریبی حلقوں میں ہونے والی خفیہ بات چیت، حتیٰ کہ سرگوشیاں بھی، براہِ راست ’’ایسے افراد‘‘ تک پہنچ رہی تھی جو موجودہ بحرانی وقتوں میں پارٹی کی سیاست پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اس صورتحال سے باخبر ایک عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ بظاہر جس شخص پر سوالات اٹھ رہے ہیں وہ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کے قریبی شخص ہیں اور اکثر انہیں پارٹی کے اندر اور باہر پیغام رسانی کا کام دیا جاتا رہا ہے۔
یہ شک اس وقت اٹھا جب ایئرپوڈز کا حد سے زیادہ اور غیر ضروری استعمال ہونے لگا۔ ایئرپوڈز ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی جانب سے بنائے جانے والے بلیوٹوتھ وائرلیس ہیڈفونز ہیں۔
ذریعے نے بتایا کہ اُس شخص کے ایئرپوڈز میں جاسوس ڈیوائس نصب ہے اور وہ مشتبہ شخص میٹنگ میں یا پھر کہیں اور جانے کی صورت میں اہم رہنمائوں کے قریب اپنے یہ ایئرپوڈز ’’بھول‘‘ جاتا ہے۔
یہ سازش اس وقت گہری ہوئی جب بند کمروں میں انتہائی خفیہ بات چیت فوراً غیر مطلوبہ عناصر تک پہنچ گئی۔
ایئرپوڈز عموماً فون کالز سننے کیلئے اُس وقت استعمال کیے جاتے ہیں جب آپ کا آئی فون آپ سے دور رکھا ہو یا پھر آپ اپنا فون ہاتھ میں پکڑے نہیں رکھنا چاہتے، لیکن ایئرپوڈز اور فون کا ایک دوسرے کے 5؍ سے 6؍ میٹر کے دائرے میں ہونا ضروری ہے۔
پراڈکٹ بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دائرے کے باہر ایئرپوڈز کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ تاہم، امریکا میں بھی اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ایئرپوڈز کو جاسوسی کے مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا اس وقت ممکن ہے جب آپ اپنا فون کسی کے قریب رکھ دیں اور ’’لائیو لِسن‘‘ کا آپشن استعمال کرتے ہوئے ایئرپوڈز پر قریبی کمرے میں بیٹھ کر تمام گفتگو سنیں۔
تاہم، اس معاملے میں جس شخص پر شک ہے اس کے پاس اکثر اوقات فون نہیں ہوتا اور امکان ہے وہ یہ فون باہر ہی اپنی گاڑی میں رکھ دیتا ہو اور یہ ایئرپوڈز کی رینج میں آتے ہوں جہاں سے یہ سگنل پکڑ لیتے ہیں۔
شک اس لیے بھی بڑھ گیا کہ مذکورہ شخص نے بند کمروں میں ہونے والے اجلاس میں بھی ایئرپوڈز پہننا معمول بنا لیا۔
ذریعے کا کہنا ہے کہ ایئرپوڈز میں اگر ’’جاسوس چپ‘‘ نصب کی گئی ہو تو اس میں سرگوشیوں کی آواز بھی آسانی سے سنی جا سکتی ہے۔ اس طرح کوئی بھی شخص 2؍ کلومیٹرز کے فاصلے سے بھی ایئرپوڈز کو استعمال کرتے ہوئے بات چیت باآسانی سن سکتا ہے۔
کچھ پارٹی رہنمائوں کیلئے مذکورہ شخص کی جانب سے جاسوسی کرنا حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ انہیں اُس شخص کے پارٹی قیادت کے مخالف بنے ہوئے عناصر کے ساتھ تعلقات کا پس منظر معلوم ہے۔
مشکوک شخص کو پارٹی کے اندر اور باہر پیغام رساں شخص کا مناسب کردار دیا گیا تھا۔
پارٹی کی ایک با اثر شخصیت نے نون لیگ کی صفوں پر طاقتور کھلاڑیوں کی جانب سے حملے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی بار یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون ہمارے ساتھ اور کون ہمارے خلاف۔
ذریعے نے مشکوک شخص کے حوالے سے کہا کہ اس پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اس شخص کے محاسبے کیلئے پارٹی قیادت مختلف شواہد پر غور کر رہی ہے۔
Source
What is future of PTI & Imran Khan? Suhail Warraich's interview to Mansoor Ali Khan
Indian singer Sonu Nigam's viral video as he sings Mohammad Rafi's song during surgery
Alleged audio leak of Mishal Yousufzai & Salman Akram Raja surfaced online
Shocking Footages: Buildings sway and shake after massive 7.4 magnitude Earthquake hits Colombia
Imran Khan's important message to old friend Akbar S Babar from jail
CM Sohail Afridi’s emergency press conference on Imran Khan's health issue











