Top Rated Posts ....

Shahbaz Gill describes complete details of torture in his court statement

Posted By: Muzaffar, August 22, 2022 | 10:19:37


Shahbaz Gill describes complete details of torture in his court statement



شہباز گل نے تشدد کے حوالے سے کیا کہانی سنائی؟

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے حوالے سے عدالت میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے تحریری بیان میں جنسی تشدد کا ذکر نہیں کیا۔

آئی جی اسلام آباد نے انکوائری رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے۔ شہباز گل کے ایک صفحے پر مشتمل بیان کو من و عن انکوائری رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

شہباز گل نے خود جو کہانی سنائی اس کے مطابق انہیں نو اگست کو دو بجے اٹھایا گیا اور بہت ذیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا۔ان کی کار کی ونڈ سکرین کے شیسے توڑے گئے۔

جب مجھے تحویل میں لے لیا گیا تو میری آنکھوں پر سخت سی پٹی باندھ دی گئی۔پھر مجھے ایک نامعلوم جگہ پر لے جایا گیا۔تمام لوگوں نے گاڑیاں کھڑی کیں اور میں انہیں گاڑی سے باہر باتیں کرتے ہوئے سنا،اسکے بعد مجھے جس گاڑی میں لایا گیا وہ حرکت میں آئی اور انہیں مجھے ایک اور نامعلوم مقام پر لایا گیا۔دوسری نامعلوم کی جگہ پر انہیں ایک کمرے میں پھینک دیا گیا۔میرے تمام کپڑے اتار دیئے گئے۔مجھے برہنہ کر دیا گیا۔اسکے بعد مجھے چھڑیوں سے مارا گیا،مجھے مکے مارے گئے،تھپڑ مارے گئے اور پھر بڑے سے چمڑے کے ایک حصے سے مجھے مارا گیا۔

شہباز گل کے بیان کے مطابق پھر انہوں نے میری مدد کی اور مجھے لباس پہنایا،پانی پلایا اور چلے گئے۔پھر آدھے گھنٹے بعد دو لوگ اس کمرے میں آئے۔ان کی باتوں سے معلوم ہوا کہ دو لوگ ہیں۔پھر انہوں نے دوبارہ مارنا شروع کر دیا،انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے مجھ پر تشدد کی وڈیو فلم بھی بنائی ہے۔دونوں دفعہ وڈیو فلم بنائی گئی۔

پھر جب وہ لوگ کمرہ چھوڑ کر چلے گئے اور واپس آ کر مجھے ایک گاڑی میں سوار کیا،وہ گاڑی حرکت میں آئی اور پینتالیس منٹ کے بعد مجھے باہر نکالا اور ایک کمرے میں لے گئے۔انہوں نے میری آنکھوں سے پٹی اتاری اور بتایا کہ یہ پولیس سٹیشن سیکرٹریٹ ہے۔میں نے پوچھا کہ وقت کیا ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کی رات کے آٹھ بجے ہیں ،پھر دوبارہ انہوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی اورکار میں ڈالا،گاڑی حرکت میں آئی اور پھر مجھے ایک لاک اپ میں ڈالا اور بتایا کہ یہ پولیس سٹیشن سی آئی اے ہے۔تمام رات کاک اپ کے فرش پر پڑا رہا۔ پھر صبع ایک کار میں ڈالا گیا اور ایک گھنٹے تک گھمایاگیا۔پھر کہیں ایک کرسی پر بٹھا دیا گیا اور کئی گھنٹے تک مجھ سے سوال جواب ہوتے رہے ،دھمکی آمیز لہجے اور سخت انداز میں سوالات کئے گئے۔پھر یہی چیز دہرائی گئی اور اس رات مجھے تین چار مرتبہ پولیس سٹیسن سے باہر لے جایا گیا۔

اگلے دن مجھے عدالت نے اڈیالہ جیل بھیج دیا۔یہ جو پہلی تین راتیں جسمانی و ذہنی تشدد سے بھرپور تھیں اور میری انتہائی تضھیک کی گئی،کچھ دنوں بعد مجھے واپس پمز لے جایا گیا اور وہاں بھی ذہنی تشدد جاری رہا،اگر میں ایک ڈاکٹر کو بلاتا تھا یا نرس کو تو وہ کئی گھنتے تک نہیں آتے تھے یاانہیں نہیں آنے دیا جاتا تھا۔کسی کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔میری فیملی کو مجھ سے نہیں ملنے دیا گیا۔

پمز ہسپتال میں صبع چھ بجے کا وقت تھا۔ایک جعلی طبی معائنہ تھا،میرے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے کسی نے انہیں چیک نہیں کیا ،پھر عدالت میں سب ٹھیک ہے کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔

ہسپتال میں مجھے میرے وکلا سے بھی نہیں ملنے دیا جا رہا۔ماسوائے چند منٹ کے جب انہیں اجازت ملی۔اسلئے میں بھوک ہڑتال پر ہوں ،میں کچھ نہیں کھا رہا کہ مجھ سے میرے وکلا کو نہیں ملنے دیا جا ریا۔پمز میں میری میڈیکل رپورٹس میں بار بار ردوبدل کیا جاتا ہے،یہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے

شہباز گل کے بیان کے مطابق عدالت کے حکم پر جو کمیشن بنایا گیا تھا میں نے اس سے درخواست کی تھی کہ مجھے میرے وکلا سے ملاقات کی اجازت دی جائے ۔مجھے امید ہے کہ عوام اور عدالت میرا تحفظ کرے گی،اس جبر و تشدد اور ظلم سے،

انیس اگست کو جب مجھے عدالت میں پیس کیا گیا تو پولیس نے میرا آکسیجن ماسک بھی چھین لیا۔اس دوران میرا چہرہ بھی زخمی ہوا اور خون بھی نکلا ۔میری استدعا ہے کہ میری زندگی بچائی جائے۔

واضح رہے کہ پولیس نے ایک جامع رپورٹ عدالت میں پیش کی ہے جس میں تمام بیانات اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا گیا ہے کہ شہباز گل پر تشدد کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔

آئی جی رپورٹ میں کہا گیا کہ کسی قسم کے نشانات شہبازگل کے جسم پر نہیں پائے گئے۔شہباز گل کے حوالے سے جس جسمانی ،ذہنی اور جنسی تشدد کے الزامات لگائے گئے وہ شواہد سے ثابت نہیں ہو سکے۔


Source




Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Advertisement





Popular Posts

Comments...