Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Eye-opening Revelations in confessional statement of terrorist injured in Rangers camp attack in Karachi Eye-opening Revelations in confessional statement of terrorist injured in Rangers camp attack in Karachi Oye Saman Uthao, Ab Nhn Chalay Ga - Maryam Nawaz warns against abuse of authority in PERA Oye Saman Uthao, Ab Nhn Chalay Ga - Maryam Nawaz warns against abuse of authority in PERA Iran's retaliation strikes on US installations in Bahrain and Kuwait Iran's retaliation strikes on US installations in Bahrain and Kuwait Saudi Aramco helicopter crash kills 14 on board in Ras Tanura Saudi Aramco helicopter crash kills 14 on board in Ras Tanura Iran’s FM Araqchi's major statement on Strait of Hormuz and peace solution Iran’s FM Araqchi's major statement on Strait of Hormuz and peace solution Trump issues new warning to Iran after striking sites in Iran Trump issues new warning to Iran after striking sites in Iran

Govt Considering To Release Molvi Khadim Rizvi on Some Conditions

Posted By: Hashim Ali, February 10, 2019 | 02:45:30

Govt Considering To Release Molvi Khadim Rizvi on Some Conditions




لاہور: حکومت اور تحریک لبیک پاکستان میں بیک ڈور رابطوں کے ذریعے مولانا خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی جلد ضمانت پر رہائی کے امکان پیدا ہوگئے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت اور تحریک لبیک پاکستان میں بیک ڈور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اور ان رابطوں میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کی قیادت نے آسیہ مسیح کیس کے بارے میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سمیت آئندہ کسی بھی اعلی شخصیت کے واجب القتل اور کافر قرار دیئے جانے کے فتوے نہ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

یقین دہانی کے بعد حکومت نے قائدین اور گرفتار کارکنوں کی رہائی پر غور شروع کردیا ہے تاہم تحریک لبیک پاکستان کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف فیض آباد دھرنا سمیت دیگر مقدمات عدالتی فیصلہ آنے تک برقرار رہیں گے۔

تحریک لبیک کی طرف سے حکومت کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ وہ آسیہ مسیح کیس میں اعلی عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرے گی تاہم ضمانت پر رہائی کے بعد اس اہم معاملے پر روایتی کانفرنسز اور مظاہرے ہوں گے البتہ کوئی بڑا دھرنا یا احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کی قیادت نے یہ فیصلہ ان کی گرفتاری کے بعد کارکنوں کی طرف سے کسی بڑے ردعمل کے سامنے نہ کے بعد کیا ہے اوراب اعلی عدلیہ کی طرف سے فیض آباد دھرنا والوں کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دے دیا ہے جس کی وجہ سے تحریک لبیک اوراس کی قیادت کے لیے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔

تحریک لبیک کی قیادت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پرامن طور پر اپنی تحریک کو چلائیں اور جن ایشوز پر انہیں حکومت سے اختلاف ہو اس پر بے شک پرامن احتجاج کریں لیکن وہ اختلاف کی بنا پر کسی بھی اعلی شخصیت کو واجب القتل اور کافر قرار دیئے جانے کا فتوی نہیں دیں گے اور نہ ہی کارکنوں کو قومی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسائیں گے۔تحریک لبیک پاکستان کی قیادت ان مشوروں کو مان کر حکومت سے پس پردہ مفاہمت کررہی ہے۔

حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے لاہور میں متحرک کارکنوں کی تعداد 500 تک ہے جو تحریک کے لیے ہرطرح کی قربانی دینے کا عزم رکھتے ہیں تاہم ان متحرک کارکنوں میں سے کافی لوگ گرفتار ہیں۔ قبل ازیں تحریک لبیک پاکستان کے درجنوں گرفتار کارکن اسٹام پیپر پر ٹی پی ایل اور اس کی قیادت سے لاتعلقی کا حلف نامہ جمع کروا کر ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔



Source



Comments...