Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Breaking News: The suspects who killed two brothers for 30 Rs, killed in police encounter Breaking News: The suspects who killed two brothers for 30 Rs, killed in police encounter Imran Khan's very aggressive tweet against Field Marshal General Asim Munir Imran Khan's very aggressive tweet against Field Marshal General Asim Munir Exclusive view: Lahore's Park View Society flooded with Ravi water Exclusive view: Lahore's Park View Society flooded with Ravi water Ravi flood enters Lahore: Latest updates of flood situation in different cities Ravi flood enters Lahore: Latest updates of flood situation in different cities Visuals from Kartarpur as floodwater enters Kartarpur complex Visuals from Kartarpur as floodwater enters Kartarpur complex Hamza Ali Abbasi speaks in support of Engineer Muhammad Ali Mirza over blasphemy allegations Hamza Ali Abbasi speaks in support of Engineer Muhammad Ali Mirza over blasphemy allegations



ریاض : سماجی رابطے کی ویب سائٹس جہاں اپنے صارفین کے لیےمن چاہے جیون ساتھی کی تلاش معاون ثابت ہو رہی ہیں وہیں پرسوشل میڈیا کو طلاق جیسے ناپسندیدہ عمل کے لیے بھی کھلے عام استعمال کیا جانے لگا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں سماجی روابطے کی ویب سائٹس”فیس بک” اور “ٹویٹر” کے ذریعے بیویوں کو طلاق دینے کا ایک خطرناک رحجان فروغ پا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مملکت کی متعدد عدالتوں کے جج صاحبان نے اعتراف کیا ہے کہ بڑی تعداد میں شوہر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگے ہیں۔

سعودی وزارت قانون کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 8 ماہ میں ملک کی مختلف عدالتوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے طلاق دینے کے 2231 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ، بالخصوص سوشل میڈیا، نے لوگوں میں رابطے کے لیے ایک پُل کا کام کیا ہے۔ لوگ اب اس چینل کو شادی اور طلاق دونوں کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں۔

فقہاء کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے تمام جدید آلات ٹیلفون، سوشل میڈیا اور ای میل کے ذریعے دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے، البتہ ٹیلی فون پردی جانے والی طلاق میں بیوی کے لیے شوہر کی آواز کا پہچاننا ضروری ہے۔


Source: The News Tribe





Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...