Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
'This Is Kashmir, Not Kashmore' - Nawaz Sharif takes aim at Bilawal in Mirpur 'This Is Kashmir, Not Kashmore' - Nawaz Sharif takes aim at Bilawal in Mirpur Why UK Home Secretary Shabana Mahmood is facing severe criticism by Pakistani community? Why UK Home Secretary Shabana Mahmood is facing severe criticism by Pakistani community? Karachi: Food delivery rider assaulted with hockey stick, Suspect arrested later Karachi: Food delivery rider assaulted with hockey stick, Suspect arrested later Modi govt surrenders as India's youth Cockroach movement protests intensifies Modi govt surrenders as India's youth Cockroach movement protests intensifies India's economy is in danger, Rupee is collapsing - Dhruv Rathee exposes Modi govt India's economy is in danger, Rupee is collapsing - Dhruv Rathee exposes Modi govt Session judge Abdul Hakeem Kakar, his guard killed after vehicles targeted en route to Mastung Session judge Abdul Hakeem Kakar, his guard killed after vehicles targeted en route to Mastung



ریاض : سماجی رابطے کی ویب سائٹس جہاں اپنے صارفین کے لیےمن چاہے جیون ساتھی کی تلاش معاون ثابت ہو رہی ہیں وہیں پرسوشل میڈیا کو طلاق جیسے ناپسندیدہ عمل کے لیے بھی کھلے عام استعمال کیا جانے لگا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں سماجی روابطے کی ویب سائٹس”فیس بک” اور “ٹویٹر” کے ذریعے بیویوں کو طلاق دینے کا ایک خطرناک رحجان فروغ پا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مملکت کی متعدد عدالتوں کے جج صاحبان نے اعتراف کیا ہے کہ بڑی تعداد میں شوہر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگے ہیں۔

سعودی وزارت قانون کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 8 ماہ میں ملک کی مختلف عدالتوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے طلاق دینے کے 2231 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ، بالخصوص سوشل میڈیا، نے لوگوں میں رابطے کے لیے ایک پُل کا کام کیا ہے۔ لوگ اب اس چینل کو شادی اور طلاق دونوں کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں۔

فقہاء کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے تمام جدید آلات ٹیلفون، سوشل میڈیا اور ای میل کے ذریعے دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے، البتہ ٹیلی فون پردی جانے والی طلاق میں بیوی کے لیے شوہر کی آواز کا پہچاننا ضروری ہے۔


Source: The News Tribe



Comments...