
قاہرہ: مصر کے مختلف شہروں میں سابق صدرمحمد مرسی کے حامیوں اورفوج کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 32افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے اور محمد مرسی کو صدارت کے عہدے سے ہٹانے کے بعد مصر کے دارالحکومت قاہرہ سمیت مختلف شہروں اسکندریہ، مرسی مطروح اور الفیوم میں فوج اور محمد مرسی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں 32 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے بعد قاہرہ کی سڑکوں پر اخوان المسلمون کے ہزاروں لوگ محمد مرسی کی حمایت میں باہر نکل آئے جن میں خواتین اوربچوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
دوسری جانب محمدمرسی نے فوجی اقدام کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے مستعفیٰ ہونے سے انکار کردیا ہے۔
واضح رہے کہ 30جون 2012 کو ہونے والے انتخابات میں اخوان المسلمون کی کامیابی کے بعد محمد مرسی مصر کے صدرمنتخب ہوئے تاہم ان کے ایک سالہ دوراقتدارکے دوران سیاسی کشمکش کے باعث ملک انارکی کا شکار رہا۔
'This Is Kashmir, Not Kashmore' - Nawaz Sharif takes aim at Bilawal in Mirpur
Why UK Home Secretary Shabana Mahmood is facing severe criticism by Pakistani community?
Karachi: Food delivery rider assaulted with hockey stick, Suspect arrested later
Modi govt surrenders as India's youth Cockroach movement protests intensifies
India's economy is in danger, Rupee is collapsing - Dhruv Rathee exposes Modi govt
Session judge Abdul Hakeem Kakar, his guard killed after vehicles targeted en route to Mastung











