
قاہرہ : مصر میں منتخب حکومت کی بساط لپیٹنے کے بعد فوجی دستور کے تحت عبوری صدر بننے والے عدلی منصور یہودی نکلے۔
یہ دعویٰ اخوان المسلمون نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک آرٹیکل میں کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلی منصور خفیہ طور پر یہودی مذہب قبول کرچکے ہیں اور وہ محمد البرادعی کے ساتھ مل کر امریکی اور اسرائیلی سازش میں شریک ہیں۔
عدلی منصور جو مصری آئینی عدالت کے چیف جسٹس ہیں، نے مصر میں فوج کی جانب سے ڈاکٹر محمد مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد جمعرات کو عبوری صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔
آرٹیکل میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ عدلی منصور یہودی فرقے سبت سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ وہ عیسائی بننے کی بھی کوشش کرچکے ہیں مگر قبطی پاپ نے انہیں پبتسمہ دینے سے انکار کردیا تھا۔
مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ عدلی منصور کی بطور صدر تعیناتی عالمی سازش ہے جس میں امریکا ،اسرائیل اور محمد البرادعی ملوث ہیں، اور البرادعی وہ شخص ہیں جنھوں نے ہولو کاسٹ کے انکار کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔
تاہم اب اس آرٹیکل کو اخوان المسلمون کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا مگر اس میں کیے گئے انکشافات کے حوالے سے کوئی تردید بھی شائع نہیں کی گئی ہے۔
Iran has found its 'NUCLEAR OPTION': Former US Defense secretary
Saudi Airstrikes Target Houthi Positions After Capture of Al-Mukha
Saudi Arabia's Red Sea oil pipeline knocked out by drone strikes
Pakistan Condemns Drone Attacks on Saudi Arabia’s East-West Pipeline
Iran sends seven condition to US for reopening of Strait of Hormuz
China reportedly helped Iran in deadly attack on US forces









