Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Kasur: Brave citizen resists robbery and shots the robber after snatching his gun Kasur: Brave citizen resists robbery and shots the robber after snatching his gun Donald Trump refuses to apologize for posting insulting video of Obama and his wife Donald Trump refuses to apologize for posting insulting video of Obama and his wife New York Times exposes India’s dominance in cricket New York Times exposes India’s dominance in cricket US Ambassador & Consul General enjoy kite flying in Lahore US Ambassador & Consul General enjoy kite flying in Lahore Chinese man extracts 191 grams of gold from discarded SIM cards Chinese man extracts 191 grams of gold from discarded SIM cards Kites Fill the Skies as Basant Festivities Continue in Lahore Kites Fill the Skies as Basant Festivities Continue in Lahore

Detail of Chief Justice's Remarks While Suspending Army Chief Extension Notification




آرمی چیف کی توسیع پر ازخود نوٹس لیتے ہیں، چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف دائر درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر آرمی چیف توسیع کی سمری اور منظوری درست نہیں۔ درخواست کو ازخود نوٹس میں بدلتے ہیں۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ہے کہ صدر نے 19 اگست کو توسیع کی منظوری دی تو 21 اگست کو وزیر اعظم نے کیسے منظوری دے دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہا صدر کی منظوری کے بعد وزیر اعظم نے دوبارہ کیوں منظوری دی۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر اعظم نے دستخط کیے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کابینہ اور وزیر اعظم کی منظوری کے بعد کیا صدر نے دوبارہ منظوری دی؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت نے کوئی منظوری نہیں دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حتمی منظوری تو صدر نے دینا ہوتی ہے۔ صدر نے کابینہ سے پہلے جو مننطوری دی وہ شاید قانون کے مطابق صحیح نہ ہو۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ 21 اگست کو کابینہ کے سامنے آپ نے صدر صاحب کو رکھا دیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم صدر مملکت سے دوبارہ منظوری لے سکتے ہیں۔

انیس تاریخ کو وزیراعظم کو بتایا جاتا ہے کہ آپکا اختیار نہیں۔ پھر معلوم ہوتا ہے کہ صدر اور وزیراعظم دونوں کا اختیار نہیں، فیصلہ کابینہ نے کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اکیس اگست کو معاملہ کابینہ کو بھجوا دیا جاتا ہے۔

عدالت میں انکشاف ہوا کہ وفاقی کابینہ کے صرف گیارہ وزراء نے آرمی چیف کی توسیع کی منظوری دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کابینہ اکثریت نے منظوری دی۔ پچیس میں سے گیارہ وزرا کے ناموں کے سامنے ‘یس’ لکھا گیا. چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں یہ فیصلے اکثریت رائے سے ہوتے ہیں۔ جن ارکان نے جواب نہیں دیا ان کا انتظار کرنا چاہئیے تھا۔ ان ارکان نے ‘ناں’ بھی تو نہیں کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا حکومت کابینہ ارکان کی خاموشی کو “ہاں” سمجھتی ہے؟ کیا نوٹیفیکیشن کابینہ سے منظوری کے بعد وزیراعظم سے ہوتے ہوئے صدر تک نہیں جانا چاہئیے تھا.

چیف جسٹس نے پوچھا کہ آرٹیکل 255 کے تحت ازسر نو تقرری کا اختیار نہیں. توسیع کا ہے۔ چیف جسٹس

سمری میں توسیع کا لفظ استعمال کیا گیا جبکہ ازسر نو تقرری کی جا رہی ہے. چیف جسٹس



Source





Advertisement





Popular Posts
State bank approves new currency note designs

State bank approves new currency note designs

Views 630 | February 05, 2026
Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...