Menu
Top Rated Posts ....
Search

8 Years Old Maid Killed By Employer in Rawalpindi For Freeing The Parrot From Cage

Posted By: Asif Ali on June 03, 2020 | 01:45:49



8 Years Old Maid Killed By Employer in Rawalpindi For Freeing The Parrot From Cage




راولپنڈی میں آٹھ سالہ بچی کی تشدد اور مبینہ جنسی زیادتی کے بعد ہسپتال میں موت، ملزم میاں بیوی گرفتار

راولپنڈی میں پولیس نے آٹھ سالہ گھریلو ملازمہ کی تشدد سے ہلاکت کے بعد دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

کمسن ملازمہ پر تشدد کا واقعہ بحریہ ٹاؤن کے فیز آٹھ میں پیش آیا ہے

روات تھانے کے سب انسپکٹر محمد مختار کے مطابق 31 مئی کی رات پولیس کو بحریہ ٹاؤن میں واقع بیگم اختر میموریل ہسپتال کے سکیورٹی انچارج نے فون پر اطلاع دی کہ ایک آٹھ سالہ بچی نیم بیہوشی کی حالت میں ہسپتال لائی گئی ہے۔

جب پولیس اہلکار ہسپتال پہنچے تو بچی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹیلیٹر پر تھی۔

پولیس نے ضابطہ فوجداری کے تحت 31 مئی کی رات ایف آئی آر درج کی اور یکم جون کی صبح بچی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی۔

بچی کی ہلاکت کے بعد پولیس نے بحریہ ٹاؤن کے رہائشی حسن صدیقی اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ مذکورہ بچی انھی کے گھر ملازم تھی۔

پولیس کے مطابق ملزم حسن صدیقی ہی بچی کو ہسپتال لے کر آیا تھا اور پھر وہاں اسے چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ہسپتال کے سکیورٹی انچارج نے اسے شناخت بھی کیا ہے۔

سب انسپکٹر مختار نے بتایا کہ 'ملزم کے مطابق بچی نے صفائی کرتے ہوئے اُن کے گھر میں موجود دو قیمتی طوطے غلطی سے پنجرے سے اڑا دیے۔ جس کے بعد حسن صدیقی اور ان کی بیوی نے طیش میں آکر بچی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔'

ابتدائی تفتیش کے مطابق مذکورہ بچی کے جسم پر جگہ جگہ تشدد کے نشان تھے۔ بچی کے گال، پسلیوں، رانوں اور ٹخنوں پر زخم اور رگڑ لگنے کے نشان موجود تھے۔ اس کے علاوہ بہت سارے پرانے زخم بھی ابھی بھر رہے تھے۔

پولیس نے بتایا کہ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرِ علاج بچی کے جسم، خاص کر رانوں پر زخم تھے اور ڈاکٹر کے مطابق بچی سے مبینہ طور پر جنسی زیادتی بھی کی گئی تھی جس کی تصدیق کے لیے خون کے نمونے پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی بھیجے گئے ہیں۔

سب انسپکٹر مختار نے بتایا کہ بچی مظفر گڑھ کی رہائشی تھی اور اسے اس کے رشتہ دار نعیم شاہ نے ملزم حسن صدیقی کے گھر بطور ملازمہ لگوایا تھا۔

حسن صدیقی اور ان کی بیوی کا ایک پانچ ماہ کا بچہ ہے جس کی دیکھ بھال کے لیے آٹھ سالہ بچی کو رکھا گیا تھا۔

سب انسپکٹر مختار نے بتایا کہ بچی کے رشتہ دار کو کہا گیا کہ 'اُس کو پڑھا لکھا کر بڑا کریں گے جبکہ صورتحال اس کے بالکل برعکس تھی۔'

پولیس کے مطابق 'یہ بات بھی ان کو غلط بتائی گئی کہ بچی کو ماہانہ تین ہزار دیے جاتے تھے۔ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔'

پولیس نے ابتدائی طور پر ملزمان کے خلاف جنسی زیادتی اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں اب قتلِ عمد کی دفعات کا اضافہ کیا گیا ہے۔

‏ایف آئی آر میں نامزد ملزمان حسن صدیقی اور ان کی اہلیہ کو گرفتاری کے بعد بالترتیب تھانہ روات اور ویمن تھانے میں رکھا گیا ہے۔

ایس پی صدر ضیا الدین احمد کے مطابق میرٹ پر تفتیش کر کے ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ ان کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔



Source


Comments...
Advertisement





Follow on Twitter

Advertisement


Popular Posts