Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
'This Is Kashmir, Not Kashmore' - Nawaz Sharif takes aim at Bilawal in Mirpur 'This Is Kashmir, Not Kashmore' - Nawaz Sharif takes aim at Bilawal in Mirpur Why UK Home Secretary Shabana Mahmood is facing severe criticism by Pakistani community? Why UK Home Secretary Shabana Mahmood is facing severe criticism by Pakistani community? Karachi: Food delivery rider assaulted with hockey stick, Suspect arrested later Karachi: Food delivery rider assaulted with hockey stick, Suspect arrested later Modi govt surrenders as India's youth Cockroach movement protests intensifies Modi govt surrenders as India's youth Cockroach movement protests intensifies India's economy is in danger, Rupee is collapsing - Dhruv Rathee exposes Modi govt India's economy is in danger, Rupee is collapsing - Dhruv Rathee exposes Modi govt Session judge Abdul Hakeem Kakar, his guard killed after vehicles targeted en route to Mastung Session judge Abdul Hakeem Kakar, his guard killed after vehicles targeted en route to Mastung



پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی میں شدت پسند ملا نذیر گروپ کے ایک ذیلی گروپ نے ایک پمفلٹ میں کہا ہے کہ بغیر کسی عذر یا ضروری وجہ کے روزہ توڑنے یا روزہ نہ رکھنے والے کو بیس کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔

پمفلٹ میں نرم اور باریک کپڑے فروخت کرنے والے دکانداروں، ’باڈی ٹچ‘ یا چست کپڑے سینے اور پہننے والے افراد کو بھی جرمانہ کیا جائے گا۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق یہ پمفلٹ جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا اور دیگر شہروں میں رمضان شروع ہونے سے ایک دن پہلے تقسیم کیے گئے ہیں۔

اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ رمضان میں اگر کوئی شخص بغیر کسی وجہ کے روزہ نہیں رکھے گا اور یا روزہ توڑ دے گا تو اسے بیس کوڑوں کی سزا دی جائے گی اور اسے پورا مہینے جیل میں رکھا جائے گا۔
اس پمفلٹ کے اوپر سرخی کے طور پر ’ضروری نوٹس‘ درج ہے جبکہ جاری کنندہ میں مجاہدینِ وزیرستان، وانا جنوبی وزیرستان لکھا گیا ہے۔
یہ پمفلٹ باقاعدہ طور پر چھپا ہوا ہے اور اس میں جنوبی وزیرستان وانا سب ڈویژن کی عوام سے خطاب کیا گیا ہے۔
اس نوٹس میں روزے کے علاوہ کپڑے فروخت کرنے والے تاجروں اور درزیوں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے جو نرم یا باریک کپڑا فروخت کرتے ہیں۔
اس نوٹس میں ’باڈی ٹچ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے لباس کے استعمال سے حیا ختم ہو جاتی ہے اور یہ مسلمانوں کی حیا ختم کرنے کی پہلی کوشش ہوتی ہے۔
اس نوٹس میں درزیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ باڈی ٹچ لباس کی سلائی ترک کر دیں اور اگر کسی درزی کی دکان سے ایسے لباس ملے تو اسے 50 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا اور آئندہ اسے علاقے میں کاروبار کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس نوٹس کی آخری لائن میں نوجوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے تنگ، باریک اور باڈی ٹچ لباس استعمال نہ کریں۔
اس طرح کے پمفلٹ جاری کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، ماضی میں بھی مختلف اوقات میں لوگوں سے خطاب یا انھیں کسی بات سے تنبیہ کرنے کے لیے اس طرح کے نوٹس جاری کیے جاتے رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ گروپ حکومت کا حمایتی گروپ سمجھا جاتا ہے اور ان کی وابستگی شمالی وزیرستان میں متحرک گل بہادر گروپ سے بتائی جاتی ہے۔
مجاہدین وزیرستان کے سربراہ ملا نذیر کو چند ماہ پہلے ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد اس علاقے سے بڑی تعداد میں لوگوں کو نکل جانے کا کہا گیا تھا۔



Source: BBC News



Comments...