Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Iranian origin and Swedish female minister attends meeting with 3 months child Iranian origin and Swedish female minister attends meeting with 3 months child DPO Sargodha tells details of minor girl murder case in grocery store DPO Sargodha tells details of minor girl murder case in grocery store Death toll rises to 235 as Venezuela earthquake causes massive devastation Death toll rises to 235 as Venezuela earthquake causes massive devastation Iran's retaliation strikes on US installations in Bahrain and Kuwait Iran's retaliation strikes on US installations in Bahrain and Kuwait Japanese ambassador in Bahrain prepares 'Niaz' for Ashura Japanese ambassador in Bahrain prepares 'Niaz' for Ashura US attack will be met with a more severe and comprehensive response - IRGC US attack will be met with a more severe and comprehensive response - IRGC

Breaking News: Journalist Matiullah Jan Kidnapped By Some Unknown Persons

Posted By: Zafar Ali, July 21, 2020 | 04:06:04




صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد سے ’لاپتہ‘، گاڑی اہلیہ کے سکول کے باہر سے برآمد

ابتدائی اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے معروف صحافی مطیع اللہ جان کو لاپتہ کر دیا ہے ۔ اہلیہ نے تصدیق کی ہے ۔

غیرجمہوری قوتوں پر تنقید کے لیے مشہور پاکستانی صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد سے لاپتہ ہو گئے ہیں اور ان کی گاڑی اس سکول کے باہر کھڑی ملی ہے جہاں وہ اپنی اہلیہ کو چھوڑنے کے لیے آئے تھے۔

مطیع اللہ جان کی اہلیہ نے بی بی سی اردو کے اعظم خان کو بتایا کہ وہ منگل کی صبح ساڑھے نو بجے انھیں سیکٹر جی سکس میں واقع اس سرکاری سکول تک چھوڑنے آئے تھے جہاں وہ پڑھاتی ہیں۔

مطیع اللہ کی اہلیہ کے مطابق انھیں سکول کے سکیورٹی گارڈ نے مطلع کیا کہ ان کی گاڑی سکول کے باہر تقریباً ساڑھے گیارہ بجے سے کھڑی ہے۔

مطیع اللہ جان کی اہلیہ کے مطابق ’گاڑی کے شیشے کھلے تھے، گاڑی کی چابی اور ان کے زیر استعمال ایک فون بھی گاڑی کے اندر ہی تھا۔‘

ان کے مطابق 'جب میرا اپنے شوہر سے رابطہ نہیں ہو سکا تو میں نے فوراً پولیس کو فون کیا اور کچھ دیر بعد پولیس موقع پر پہنچی۔‘

مطیع اللہ کی اہلیہ کے مطابق سکول کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے معلوم ہو سکے گا کہ یہ گاڑی سکول تک کون چلا کر لایا ہے تاہم انھوں نے پولیس کو اپنے شوہر کے لاپتہ ہونے سے متعلق شکایت درج کرا دی ہے۔

خیال رہے کہ مطیع اللہ جان کی بدھ کو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدے میں پیشی تھی۔ گذشتہ بدھ کو پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے انھیں ایک متنازع ٹویٹ پر نوٹس جاری کیا تھا۔

مطیع اللہ جان کون ہیں؟
مطیع اللہ جان گذشتہ تین دہائیوں سے صحافت کر رہے ہیں۔ انھوں نے قائد اعظم یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔

ان کے والد فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھے اور خود انھوں نے بھی فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا تاہم کچھ عرصے بعد انھوں نے یہ ملازمت چھوڑ دی تھی۔

ماضی میں بھی مطیع اللہ جان کو ہراساں کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

ستمبر سنہ 2017 میں بھی مطیع اللہ جان کی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اسلام آباد میں بارہ کہو کے مقام پر پیش آیا تھا جب موٹر سائیکل پر سوار افراد نے مطیع اللہ کی گاڑی کی ونڈ سکرین پر اینٹ دے ماری تھی جس سے ونڈ سکرین پر دراڑیں پڑی تھیں۔

حملے کے وقت گاڑی میں مطیع اللہ جان کے بچے بھی ان کے ساتھ گاڑی میں موجود تھے۔

جون 2018 میں اس وقت کے فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جب سوشل میڈیا کے بعض اکاؤنٹس پر ریاست مخالف پراپیگنڈے پر مبنی ٹویٹس کا الزام لگایا تھا اور ایسے اکاؤنٹس کا ایک چارٹ دکھایا تھا تو اس میں بھی مطیع اللہ جان کا اکاؤنٹ نمایاں کر کے دکھایا گیا تھا۔



Source



Comments...