Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
CM Sohail Afridi reaches Ayat Noor's house, Breaks down in tears while hugging her father CM Sohail Afridi reaches Ayat Noor's house, Breaks down in tears while hugging her father 'Madness': Planes just metres away, flying dangerously close from hitting rugby stadium packed with fans in South Africa 'Madness': Planes just metres away, flying dangerously close from hitting rugby stadium packed with fans in South Africa Iran's Khamenei urges Gulf rulers in written message to recognize 'real enemy' Iran's Khamenei urges Gulf rulers in written message to recognize 'real enemy' Bilibili Takes on YouTube, Big push into global market Bilibili Takes on YouTube, Big push into global market Russia Test-launches Intercontinental Ballistic Missile as tensions escalate Russia Test-launches Intercontinental Ballistic Missile as tensions escalate iPhone 17 Pro survives fall from 100,000 feet, setting a world record iPhone 17 Pro survives fall from 100,000 feet, setting a world record

Peshawar: Tauheen e Risalat Ke Mulzim Ko Adalat Mein Judge Ke Samni Goli Maar Ker Qatal Ker Dia Gaya




پشاور ضلعی عدالت: توہین رسالت کا ملزم جج کے سامنے قتل

شاور کی ایک مقامی عدالت میں پشاور کے رہائشی کو جج کے سامنے اس وقت قتل کیا گیا جب عدالت میں توہین رسالت کیس کی سماعت ہورہی تھی۔

سٹی کیپیٹل پولیس آفیسر محمد علی گنڈاپور نے عدالت کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ایک شخص کو سیشن جج شوکت علی کے سامنے قتل کر دیاگیاہے جبکہ قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیاگیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس تفتیش کر رہی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی دیکھے گی کہ قتل کرنے والے ملزم پستول کے ساتھ کیسے کمرہ عدالت میں داخل ہوا ہے۔

قتل ہونے والے شخص کانام طاہر احمد بتایا جاتا ہے اور پشاور کےاچینی بالا علاقے سے ان کا تعلق ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق قتل ہونے والے شخص پر توہین رسالت کا کیس گزشتہ دو سالوں سے چل رہا تھا۔

ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر میں ان کے اوپر آئین پاکستان کی دفعہ295اے،بی، سی جو توہین رسالت کے بارے میں ہیں اور دفعہ 198 سمیت دفعہ 253 کے تحت مقدمہ درج تھا۔

ملزم کے خلاف کون سا مقدمہ درج تھا؟

قتل ہونے والے ملزم پر آئین پاکستان کی دفعہ 295 اور دفعہ 198 سمیت 253 کے تحت مقدمہ نوشہرہ کے ایک رہائشی کی مدعیت میں 2018 میں درج کیا گیا تھا۔

ملزم پر درج ایف آئی آر کی کاپی جو انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، اس میں درخواست گزار کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ مذکورہ شخص طاہر نسیم نے درخواست گزار کو فیس بک پر دوستی کا پیغام بھیج دیا اور اس کے بعد انھوں نے اپنے عقیدے کا پرچار شروع کیا۔

مقدمے کے مطابق درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملزم نے بعد میں یہ دعوی کیا کہ وہ اس صدی کے مجدد ہیں اور انھیں مناظرے کا چیلنج دے دیا جو قبول کر لیا گیا۔ درخواست گزار اس وقت اسلام آباد کے ایک مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے.

درخواست گزار کے مطابق مناظرے کے لیے وہ پشاور پہنچ گئے اور مناظرے کے دوران ملزم نے کہا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں اور پندرہویں صدی کے مجدد ہیں جبکہ درخواست گزار کے مطابق ملزم نے یہ بھی بتایا کہ ان کا ذکر قران میں بھی موجود ہے۔

مقدمے کے مطابق درخواست گزار نے لکھا ہے کہ اس بات کے ثبوت ان کے پاس موجود ہیں کہ اس شخص نے نبوت کا دعوی کیا ہے اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اسی کیس کی سماعت کے دوران ملزم طاہر نسیم کو جج کے سامنے قتل کیا گیا۔

کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ قتل کرنے سے پہلے گولی چلانے والے شخص یہی کہہ رہے تھے کہ یہ شخص احمدی ہے اور یہ توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں جس کے بعد انھوں نے پستول نکال کر ملزم پر فائرنگ کی۔



Source



Comments...