Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
DG ISPR's response to Maulana Fazal Ur Rehman's statement about martyrs DG ISPR's response to Maulana Fazal Ur Rehman's statement about martyrs Nabeel Gabol's video goes viral while riding bike without helmet and Police officer salutes him Nabeel Gabol's video goes viral while riding bike without helmet and Police officer salutes him CCTV footage of suspects in PTI leader Abdullah Tahir murder case CCTV footage of suspects in PTI leader Abdullah Tahir murder case India: Rs 28 crore and 15 kg of gold recovered from ex bus driver's house, 5 note counting machines failed to count India: Rs 28 crore and 15 kg of gold recovered from ex bus driver's house, 5 note counting machines failed to count Did Iran destroy an F-35? IRGC releases satellite images of US base in Jordan Did Iran destroy an F-35? IRGC releases satellite images of US base in Jordan This is his personal opinion - DG ISPR's comments on Mohsin Naqvi's statement This is his personal opinion - DG ISPR's comments on Mohsin Naqvi's statement

Peshawar: Tauheen e Risalat Ke Mulzim Ko Adalat Mein Judge Ke Samni Goli Maar Ker Qatal Ker Dia Gaya




پشاور ضلعی عدالت: توہین رسالت کا ملزم جج کے سامنے قتل

شاور کی ایک مقامی عدالت میں پشاور کے رہائشی کو جج کے سامنے اس وقت قتل کیا گیا جب عدالت میں توہین رسالت کیس کی سماعت ہورہی تھی۔

سٹی کیپیٹل پولیس آفیسر محمد علی گنڈاپور نے عدالت کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ایک شخص کو سیشن جج شوکت علی کے سامنے قتل کر دیاگیاہے جبکہ قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیاگیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس تفتیش کر رہی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی دیکھے گی کہ قتل کرنے والے ملزم پستول کے ساتھ کیسے کمرہ عدالت میں داخل ہوا ہے۔

قتل ہونے والے شخص کانام طاہر احمد بتایا جاتا ہے اور پشاور کےاچینی بالا علاقے سے ان کا تعلق ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق قتل ہونے والے شخص پر توہین رسالت کا کیس گزشتہ دو سالوں سے چل رہا تھا۔

ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر میں ان کے اوپر آئین پاکستان کی دفعہ295اے،بی، سی جو توہین رسالت کے بارے میں ہیں اور دفعہ 198 سمیت دفعہ 253 کے تحت مقدمہ درج تھا۔

ملزم کے خلاف کون سا مقدمہ درج تھا؟

قتل ہونے والے ملزم پر آئین پاکستان کی دفعہ 295 اور دفعہ 198 سمیت 253 کے تحت مقدمہ نوشہرہ کے ایک رہائشی کی مدعیت میں 2018 میں درج کیا گیا تھا۔

ملزم پر درج ایف آئی آر کی کاپی جو انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، اس میں درخواست گزار کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ مذکورہ شخص طاہر نسیم نے درخواست گزار کو فیس بک پر دوستی کا پیغام بھیج دیا اور اس کے بعد انھوں نے اپنے عقیدے کا پرچار شروع کیا۔

مقدمے کے مطابق درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملزم نے بعد میں یہ دعوی کیا کہ وہ اس صدی کے مجدد ہیں اور انھیں مناظرے کا چیلنج دے دیا جو قبول کر لیا گیا۔ درخواست گزار اس وقت اسلام آباد کے ایک مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے.

درخواست گزار کے مطابق مناظرے کے لیے وہ پشاور پہنچ گئے اور مناظرے کے دوران ملزم نے کہا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں اور پندرہویں صدی کے مجدد ہیں جبکہ درخواست گزار کے مطابق ملزم نے یہ بھی بتایا کہ ان کا ذکر قران میں بھی موجود ہے۔

مقدمے کے مطابق درخواست گزار نے لکھا ہے کہ اس بات کے ثبوت ان کے پاس موجود ہیں کہ اس شخص نے نبوت کا دعوی کیا ہے اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اسی کیس کی سماعت کے دوران ملزم طاہر نسیم کو جج کے سامنے قتل کیا گیا۔

کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ قتل کرنے سے پہلے گولی چلانے والے شخص یہی کہہ رہے تھے کہ یہ شخص احمدی ہے اور یہ توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں جس کے بعد انھوں نے پستول نکال کر ملزم پر فائرنگ کی۔



Source



Comments...