Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Women fight at a flat on Karachi’s Khayaban-e-Bukhari, New footage emerges Women fight at a flat on Karachi’s Khayaban-e-Bukhari, New footage emerges CM Sohail Afridi reaches Ayat Noor's house, Breaks down in tears while hugging her father CM Sohail Afridi reaches Ayat Noor's house, Breaks down in tears while hugging her father 'Madness': Planes just metres away, flying dangerously close from hitting rugby stadium packed with fans in South Africa 'Madness': Planes just metres away, flying dangerously close from hitting rugby stadium packed with fans in South Africa Iran's Khamenei urges Gulf rulers in written message to recognize 'real enemy' Iran's Khamenei urges Gulf rulers in written message to recognize 'real enemy' Bilibili Takes on YouTube, Big push into global market Bilibili Takes on YouTube, Big push into global market PCB complains after interview with Imran’s sons telecast during Pak-England Test PCB complains after interview with Imran’s sons telecast during Pak-England Test

America Demands Pakistan To Take Strict Action Against Killer of Tahir Naseem




پاکستان عدالت میں توہین مذہب کے امریکی ملزم کے قتل کےخلاف کارروائی کرے،امریکا

امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس میں توہین مذہب و رسالت کے ملزم و امریکی شہری کے قتل کے معاملے پر کارروائی کرے۔

57 سالہ طاہر احمد نسیم گزشتہ روز ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران دلائل کے بعد بیٹھے تھے اور جیل منتقلی کا انتظار کر رہے تھے جب انہیں قریب سے متعدد گولیاں ماری گئیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ٹوئٹ میں کہا کہ 'ہم امریکی شہری طاہر نسیم کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں، جنہیں پاکستان کی کمرہ عدالت میں قتل کردیا گیا۔'

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ 'ہم پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری کارروائی کرے اور دوبارہ ایسے شرمناک سانحات کی روک تھام کے لیے اصلاحات کرے۔'

حکام و عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز جب جج کے سامنے طاہر نسیم کے خلاف چارجز پڑھ کر سنائے جارہے تھے اس وقت وہاں موجود ایک نوجوان نے پستول نکالی اور طاہر کے سر پر گولی ماری۔

19 سالہ حملہ آور کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا اور اس کی پستول قبضے میں لے لی گئی تھی۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں مقتول کو عدالت کی نشست پر خون میں لت پت دیکھا گیا۔

ویڈیو میں ملزم کو پولیس کی حراست میں بھی دیکھا گیا اور وہ لوگوں کو بتا رہ تھا کہ طاہر توہین مذہب و رسالت کا ملزم تھا۔

پولیس ملزم سے اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ وہ اتنی سیکیورٹی کے باوجود پشاور جوڈیشل کمپلیکس میں پستول کیسے لے کر آیا اور کیا کسی نے اسے قتل کے لیے اکسایا۔

حملہ آور کے خلاف ایسٹ کینٹ تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302، انسداد دہشت گردی قانون کی دفعہ 7 اور آرمی ایکٹ کی دفعہ 15 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

مقتول نے حال ہی میں عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ اسے کلمہ طیبہ پڑھنے کی اجازت دی جائے تاکہ واضح ہوسکے کہ وہ مسلمان ہے اور اس کا احمدیہ برادری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

درخواست پر دلائل کے بعد جج سید شوکت اللہ شاہ نے سماعت 12 اکتوبر تک ملتوی کردی تھی۔

طاہر نسیم کے خاندان سے رابطہ رکھنے والے ایک ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ مقتول اپنے اہلخانہ کے ہمراہ امریکا میں مقیم تھے اور سوشل میڈیا پر چند لوگوں سے تعلق قائم ہونے کے بعد 2018 میں پاکستان آئے تھے۔

ان لوگوں نے مقتول کو اپنے عقیدے کی دعوت کے لیے پاکستان آنے کی ترغیب دی تھی۔

طاہر نسیم کے خلاف 25 اپریل 2018 میں سربند تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 153۔اے، 295۔اے، 295۔بی، 295۔سی اور 298 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ان کے خلاف پولیس میں شکایت نوشہرہ کے رہائشی و اسلام آباد میں مدرسے کے طالب علم ملک اویس نے درج کروائی تھی۔

طاہر نسیم پر 4 فروری 2019 کو دفعات 153۔اے، 295۔اے اور 298 کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی، جبکہ ان کے خلاف چارج شیٹ میں دفعات 295۔بی اور 295۔سی کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ ملزم نے ان چارجز کو مسترد اور اپنے دفاع کا فیصلہ کیا تھا۔



Source



Comments...