Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Lahore: Bhati Gate incident, CCTV footage of woman heading towards manhole Lahore: Bhati Gate incident, CCTV footage of woman heading towards manhole Lahore's Most Expensive Rooftop Acquired at Rs 1 Crore Rent for Basant Lahore's Most Expensive Rooftop Acquired at Rs 1 Crore Rent for Basant Bhati Gate incident, Uzma Bukhari apologizes for sharing wrong facts, offers resignation to CM Maryam Nawaz Bhati Gate incident, Uzma Bukhari apologizes for sharing wrong facts, offers resignation to CM Maryam Nawaz If she were my daughter, or one of yours, the entire system would have been shaken - CM Maryam Nawaz If she were my daughter, or one of yours, the entire system would have been shaken - CM Maryam Nawaz Husband of Bhatti Gate victim talks to media Husband of Bhatti Gate victim talks to media PIMS chief shares details of Imran Khan’s eye treatment PIMS chief shares details of Imran Khan’s eye treatment

Lahore: Security Guard Killed His Fellow Guard Declaring Him Blasphemer During Religious Debate





لاہور ( اکرام راجہ) گستاخانہ مواد پر بحث و تکرار کے نتیجے میں نجی سکیورٹی کمپنی کے ایک سکیورٹی گارڈ نے اپنے ہی ساتھی سکیورٹی گارڈ کو قتل کر ڈالا۔ قاتل جماعت علی نے سکیورٹی رائفل کے فائر سے دوران نیند محمد اعظم کو قتل کیا اور خود فرار ہو گیا۔ قتل کا واقعہ لاہور کے علاقے کرول گھاٹی میں پیش آیا جہاں اختر نامی سٹیل ملز میں ایک نجی سکیورٹی کمپنی کے دو گارڈز کے درمیان مذہبی حوالے سے بحث و تکرار ہوا۔

پولیس کے مطابق واقعہ 17 اگست کی صبح 4 بجے پیش آیا۔ قاتل جیا موسی شاہدہ کا رہائشی ہے۔ جبکہ مقتول کا تعلق بہاولنگر کی تحصیل منچن آباد سے ہے۔ واقعہ کا مقدمہ دفعہ 302 کے تحت مقتول کے بھائی محمد فیاض کی مدعیت میں درج کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق جماعت علی اور محمد اعظم کے درمیان بحث ہوئی، بات لڑائی جھگڑے تک پہنچی تو جماعت علی نے محمد اعظم کو 12 بور پمپ کی رائفل سے سر پر فائر مارا جس سے وہ موقع پر ہی جہاں بحق ہو گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم قاتل ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا۔ جبکہ مقتول اعظم کی لاش کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے جسے 18 اگست کی دوپہر کو منچن آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محمد اعظم پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ حافظ قرآن تھے اور گزشتہ تین سالوں سے مقامی مسجد میں بچوں کو ناظرہ پڑھاتے تھے مگر انہیں اس کی خاص فیس نہیں کی ملتی تھی۔ دو ماہ قبل اعظم نے لاہور کا رخ کیا اور ایک سکیورٹی کمپنی میں گارڈ بھرتی ہو گیا۔

اعظم اور جماعت علی کے کچھ دوسرے ساتھیوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اعظم نے مذہبی حوالے سے کچھ لٹریچر لکھا تھا جس پر جماعت علی کو اس سے اختلاف تھا۔ دونوں کے بیچ کئی کئی گھنٹوں بحث بھی ہوتی تھی۔ واقعے کی پچھلی شام دوران ڈیوٹی بحث لڑائی جھگڑے میں تبدیل ہوئی اور آدھی رات کو جماعت علی نے اعظم کو دوران نیند ہی قتل کر دیا۔

واضح رہے کہ ایک ماہ میں پیش آنے والا یہ دوسرا واقعہ ہے جب توہین مذہب اور گستاخانہ مواد کے الزام میں ماورائے عدالت قتل ہوا۔ اس سے قبل، مشعال خان اور سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر بھی اسی طرز کے الزامات میں قتل کیے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں توہین مذہب اور گستاخی کے الزامات میں اب تک ایک سو کے قریب افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا جا چکا ہے



Source



Comments...