Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Video: Run-Out controversy between Salman Agha vs Mehidy Hassan Video: Run-Out controversy between Salman Agha vs Mehidy Hassan Iran intensifies attacks on ships in Strait of Hormuz Iran intensifies attacks on ships in Strait of Hormuz Five US Air Force refueling jets hit in Iranian strike at Prince Sultan ​air base in ​Saudi Arabia Five US Air Force refueling jets hit in Iranian strike at Prince Sultan ​air base in ​Saudi Arabia US C-130 refueling plane crashes in Iraq US C-130 refueling plane crashes in Iraq Iranian President Masoud Pezeshkian presents three conditions to end the conflict Iranian President Masoud Pezeshkian presents three conditions to end the conflict US Reportedly Moving B-1B Bunker-Buster Bombs in UK Base to Attack Iran US Reportedly Moving B-1B Bunker-Buster Bombs in UK Base to Attack Iran

Layyah: Two TLP Supporters Attack School Headmaster Declaring Him "Ahmadi" & "Wajib ul Qatal"



لیہ: تحریک لبیک سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کا لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے سکول ہیڈماسٹر پر قاتلانہ حملہ

پنجاب کے ضلع لیہ کے علاقے چوک اعظم کے نواحی گاؤں چک نمبر 464 ٹی ڈی اے میں سولہ سے بیس سال کی عمر کے دو نوجوانوں نے لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے نعرے لگاتے ہوئےاسکول کے پرنسپل پر قاتلانہ حملہ کردیا۔ حملہ آور نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ہیڈ ماسٹر قادیانی مرتد واجب القتل ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پولیس نے حملہ آورنوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق انہوں نے ذاتی رنجش کی بنا پر سکول پرنسپل پر حملہ کیا۔ اور جس پستول سے فائرنگ کی وہ بھی غیر قانونی اسلحہ ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق سکول پرنسپل محفوظ ہیں اور پولیس کارروائی کر رہی ہے۔

اس واقعے پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اور مذہبی رہنما مولانا طاہر اشرفی نے نیا دور سے بات کرتےہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پرنسپل پر باطل الزامات کے تحت حملہ کر دیا گیا جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی قادیانی ہے تو اس کی جان لینے کی کسی کو اجازت نہیں۔ اور یہاں تک کہ اگر کسی نے توہین کی بھی ہے تو بھی ریاست اور اسکا قانون موجود ہے۔ اسی قانون کے پاس اختیار ہے کہ وہ کس معاملے پر ایکشن لے۔ انہوں نے کہا کہ وہ معاملے سے باخبر ہیں اور اس پر پیش رفت کو بھی مانیٹر کر رہے ہیں ریاست کسی کو بھی اسکے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔



Source






Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...