Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Haseena Wajid's speech sparks new tension between India & Bangladesh Haseena Wajid's speech sparks new tension between India & Bangladesh Mohsin Naqvi tweets about his meeting with PM Shehbaz regarding Pakistan team's participation in the T20 World Cup Mohsin Naqvi tweets about his meeting with PM Shehbaz regarding Pakistan team's participation in the T20 World Cup New York Mayor Zohran Mamdani removing snow from streets, Video goes viral New York Mayor Zohran Mamdani removing snow from streets, Video goes viral Opinion divided on Iman Mazari's arrest, New controversy on Ansar Abbasi's story - Details by Omar Cheema Opinion divided on Iman Mazari's arrest, New controversy on Ansar Abbasi's story - Details by Omar Cheema Karachi: Video of clash between lifter driver and car owner goes viral Karachi: Video of clash between lifter driver and car owner goes viral Sohail Afridi gives 24 hour deadline, Iran gets new support - Details by Mansoor Ali Khan Sohail Afridi gives 24 hour deadline, Iran gets new support - Details by Mansoor Ali Khan

Layyah: Two TLP Supporters Attack School Headmaster Declaring Him "Ahmadi" & "Wajib ul Qatal"



لیہ: تحریک لبیک سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کا لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے سکول ہیڈماسٹر پر قاتلانہ حملہ

پنجاب کے ضلع لیہ کے علاقے چوک اعظم کے نواحی گاؤں چک نمبر 464 ٹی ڈی اے میں سولہ سے بیس سال کی عمر کے دو نوجوانوں نے لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے نعرے لگاتے ہوئےاسکول کے پرنسپل پر قاتلانہ حملہ کردیا۔ حملہ آور نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ہیڈ ماسٹر قادیانی مرتد واجب القتل ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پولیس نے حملہ آورنوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق انہوں نے ذاتی رنجش کی بنا پر سکول پرنسپل پر حملہ کیا۔ اور جس پستول سے فائرنگ کی وہ بھی غیر قانونی اسلحہ ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق سکول پرنسپل محفوظ ہیں اور پولیس کارروائی کر رہی ہے۔

اس واقعے پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اور مذہبی رہنما مولانا طاہر اشرفی نے نیا دور سے بات کرتےہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پرنسپل پر باطل الزامات کے تحت حملہ کر دیا گیا جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی قادیانی ہے تو اس کی جان لینے کی کسی کو اجازت نہیں۔ اور یہاں تک کہ اگر کسی نے توہین کی بھی ہے تو بھی ریاست اور اسکا قانون موجود ہے۔ اسی قانون کے پاس اختیار ہے کہ وہ کس معاملے پر ایکشن لے۔ انہوں نے کہا کہ وہ معاملے سے باخبر ہیں اور اس پر پیش رفت کو بھی مانیٹر کر رہے ہیں ریاست کسی کو بھی اسکے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔



Source




Comments...