Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Interesting questions by female student from CM KPK Suhail Afridi Interesting questions by female student from CM KPK Suhail Afridi Bhati gate incident: Husband reveals how police tortured him in police station Bhati gate incident: Husband reveals how police tortured him in police station Pakistan boycotts India's match, Indian media lashes out at BCCI Pakistan boycotts India's match, Indian media lashes out at BCCI ICC reacts to Pakistan's decision to boycott of World Cup match against India ICC reacts to Pakistan's decision to boycott of World Cup match against India Inside story of CM Sohail Afridi’s meeting with PM Shehbaz Sharif Inside story of CM Sohail Afridi’s meeting with PM Shehbaz Sharif Iran steps up threats abroad as Trump admin weighs options Iran steps up threats abroad as Trump admin weighs options

Jang / Geo Group Issues Policy Statement Regarding Removal of Hamid Mir




جنگ ، جیو گروپ کا موقف

سول سوسائٹی اورمیڈیا حقوق کی تنظیموں کی جانب سے صحافی اسد طور پر نامعلوم افراد کے حملے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں جیو کے سینئر اینکر حامد میر نے تقریر کی جسکے نتیجے میں معاشرے کے مختلف حلقوں کا شدید ردعمل سامنے آیا۔

ہم ایڈیٹوریل کمیٹی اور وکلاء کے ساتھ اس صورتحال کا جائزہ لیں گے کہ پالیسی یا قانون کی کوئی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔

اس دوران کیپٹل ٹاک کی میزبانی عارضی میزبان کے سپرد کی جارہی ہے۔ ہم اپنے ناظرین اور قارئین کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ملک میں کسی بھی دوسری میڈیا آرگنائزیشن کے مقابلے میں کرپشن، توہین رسالت اور غداری جیسے سیکڑوں جھوٹے الزامات پر جنگ جیو گروپ کو بند کیا گیا، ہمارے صحافیوں کو مارا پیٹا گیا، اپنے ناظرین اور قارئین کو حالات سے باخبر رکھنے میں آرگنائزیشن کو دس ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔

تاہم گروپ اور اس کے ایڈیٹرز کے لیے مشکل ہوگیا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے باہر کی گئی تقریر یا تحریر کے مواد کی ذمہ داری کیسے لیں، جو واقعتاً ایڈیٹوریل ٹیم نے دیکھا ہو اور نہ ہی اس کی منظوری دی ہو۔

حامد میر اور دوسرے صحافی اپنے ساتھی صحافی پر حملے کے حوالے سے جس غم و غصے یا مایوسی کا شکار ہوئے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، تاہم صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کیلئے بہتر طریقے اور ذرائع موجود ہیں۔

پاکستان میں صحافیوں کی بہت بڑی تعداد عوام کے جاننے کے حق کے لیے لڑتے ہوئے جانوں اور آزادی سے محروم ہوئی۔

پی ایف یو جے، ایچ آر سی پی، اے پی این ایس سی، اے ایم ایم ای ڈی اور سی پی این ای اس کے ساتھ ساتھ میڈیا حقوق کی عالمی تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ وہ صحافیوں کو ایسے اقدامات کے خلاف تحفظ دیا جائے مگر اب تک کسی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔



Source





Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...