Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Lahore's Most Expensive Rooftop Acquired at Rs 1 Crore Rent for Basant Lahore's Most Expensive Rooftop Acquired at Rs 1 Crore Rent for Basant Bhati Gate incident, Uzma Bukhari apologizes for sharing wrong facts, offers resignation to CM Maryam Nawaz Bhati Gate incident, Uzma Bukhari apologizes for sharing wrong facts, offers resignation to CM Maryam Nawaz PIMS chief shares details of Imran Khan’s eye treatment PIMS chief shares details of Imran Khan’s eye treatment If she were my daughter, or one of yours, the entire system would have been shaken - CM Maryam Nawaz If she were my daughter, or one of yours, the entire system would have been shaken - CM Maryam Nawaz Why govt kept Imran Khan's illness a secret? Rana Sanaullah replies Why govt kept Imran Khan's illness a secret? Rana Sanaullah replies Husband of Bhatti Gate victim talks to media Husband of Bhatti Gate victim talks to media

PAF Spokesperson Issues Explanation on Air Chief Zaheer Babar's Viral Video

Posted By: Wazir Khan, June 15, 2021 | 06:45:46

PAF Spokesperson Issues Explanation on Air Chief Zaheer Babar's Viral Video




ایئر چیف کے لیے سرخ قالین گاؤں والوں نے بچھایا تھا: ترجمان پاک فضائیہ

پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ظہیر بابر سدھو کے اپنے آبائی گاؤں میں فاتحہ خوانی کے لیے ہیلی کاپٹر میں کیے گئے دورے پر تنقید کے بعد ترجمان پاکستان فضائیہ کے وضاحتی بیان پر بھی سوشل میڈیا پر تبصرے جاری ہیں۔

گذشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ظہیر بابر سدھو کے اپنے آبائی گاؤں میں فاتحہ خوانی کے لیے ہیلی کاپٹر میں کیے گئے دورے پر تنقید جاری ہے، جس پر پاکستانی فضائیہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ سرخ قالین گجرات کے اہل علاقہ نے ایئرچیف کے اعزاز میں بچھایا تھا، لہذا اس پر تنقید بے جا ہے۔

پاکستانی فضائیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ’ہیلی کاپٹر پر کیا گیا یہ دورہ بالخصوص آبائی علاقے کا نہیں تھا بلکہ ایئر چیف آپریشنل ایریا کے دورے پر تھے، جہاں جاتے ہوئے انہوں نے اپنے والدین کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے آبائی علاقے گجرات میں مختصر توقف کیا۔‘



مزید کہا گیا کہ ’ایئر چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا آبائی علاقے کا پہلا دورہ ہے اور سکیورٹی اور ٹرانسپورٹ کا انتظام ایئرچیف کے عہدے کے لیے مختص پروٹوکول کےمطابق کیا گیا تھا۔‘

صحافی وسیم عباسی نے ریڈ کارپٹ کی وضاحت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’اچھا، حیرت ہے گاؤں والے اگر اتنی محبت کرتے ہیں کہ قالین لے آئے تو خود کیوں نہیں آئے استقبال کے لیے؟‘



ایک اور صارف شیراز احمد نے لکھا: ’اتنے مختصر نوٹس پر گاؤں والوں نے اتنا لمبا قالین کیسے دستیاب کرلیا۔‘



پروفیسر طاہر نعیم ملک نے لکھا: ’1965 کی جنگ کے ہیرو ایئر مارشل نور خان کا گاؤں تلہ گنگ میرے گاؤں کے قریب واقع ہے۔ ہر سال عید پر بھی گاؤں آتے تو سادہ مزاج اور پروٹوکول کلچر کو ناپسند کرتے۔ آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔‘



دوسری جانب سابق چیئرمین پیمرا اور سابق صحافی ابصار عالم نے بھی اس حوالے سے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’اس ہیلی کاپٹر کے نیچے، لینڈ کروزرکے ٹائر کے نیچے، ریڈ کار پٹ کے نیچے اور ریڈ کارپٹ پر غرور سے چلنے والے بوٹوں کے نیچے اس مٹی میں اس کسان کی محنت کا پسینہ شامل ہے۔‘





Source



Comments...