Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
How life is going on inside Iran during the days of war How life is going on inside Iran during the days of war Imran Khan Ke Sath Jail Mein Ziadati Ho Rahi Hai - Chaudhry Pervez Elahi Imran Khan Ke Sath Jail Mein Ziadati Ho Rahi Hai - Chaudhry Pervez Elahi Iran releases video targeting another F-15 fighter jet Iran releases video targeting another F-15 fighter jet US lifts sanctions on Iranian oil at sea in bid to ease supply pressures US lifts sanctions on Iranian oil at sea in bid to ease supply pressures PSL 2026: Karachi, Lahore to host matches without crowds PSL 2026: Karachi, Lahore to host matches without crowds Saudi Arabia claims intercepting ten projectiles in last 24 hours Saudi Arabia claims intercepting ten projectiles in last 24 hours

Breaking: IHC Serves Contempt Notice to Rana Shamim, Summons Ansar Abbasi & Rana Shamim





سابق چیف جج رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ میں طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلوں سے متعلق گلگت بلتستان کورٹ کے سابق جج کے انکشافات کے بعد معاملے کا نوٹس لے لیتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں کل طلب کرلیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اور دی نیوز کے ایڈیٹر انصار عباسی کو ذاتی حیثیت میں کل صبح ساڑھے 10 بجے طلب کیا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور اٹارنی جنرل کو بھی کل کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کیوں ناں ہائیکورٹ کا وقارمجروح کرنے پرتوہین عدالت کی کارروائی شروع کریں؟زیرالتوا معاملہ میں اس طرح کی رپورٹنگ ہوگی تو یہ کوئی مناسب بات ہے؟آپ سب اس کورٹ میں موجود رہتےہیں،کوئی اس کورٹ پرانگلی اٹھاکردکھائے،

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے کو بہت سنجیدہ لے گی،لوگوں کا اعتماد اس طرح اٹھایا جائے گا؟اس عدالت نے ہمیشہ آزادی اظہار رائے کا احترام کیا ہے،زیر التوا کیسز پر بات کرنے کی روش بن گئی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی بیان حلفی عدالتی کارروائی کا حصہ ہے؟

واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا ایم شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

دوسری جانب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنا موقف دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں اس بات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے ماتحت ججوں کو کسی بھی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں دیئے چاہے وہ آرڈر نواز شریف، شہباز، مریم کیخلاف ہو یا کسی اور کیخلاف۔



Source





Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...