Breaking: IHC Serves Contempt Notice to Rana Shamim, Summons Ansar Abbasi & Rana Shamim
سابق چیف جج رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ میں طلب
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلوں سے متعلق گلگت بلتستان کورٹ کے سابق جج کے انکشافات کے بعد معاملے کا نوٹس لے لیتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں کل طلب کرلیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اور دی نیوز کے ایڈیٹر انصار عباسی کو ذاتی حیثیت میں کل صبح ساڑھے 10 بجے طلب کیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور اٹارنی جنرل کو بھی کل کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کیوں ناں ہائیکورٹ کا وقارمجروح کرنے پرتوہین عدالت کی کارروائی شروع کریں؟زیرالتوا معاملہ میں اس طرح کی رپورٹنگ ہوگی تو یہ کوئی مناسب بات ہے؟آپ سب اس کورٹ میں موجود رہتےہیں،کوئی اس کورٹ پرانگلی اٹھاکردکھائے،
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے کو بہت سنجیدہ لے گی،لوگوں کا اعتماد اس طرح اٹھایا جائے گا؟اس عدالت نے ہمیشہ آزادی اظہار رائے کا احترام کیا ہے،زیر التوا کیسز پر بات کرنے کی روش بن گئی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی بیان حلفی عدالتی کارروائی کا حصہ ہے؟
واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا ایم شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔
دوسری جانب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنا موقف دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں اس بات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے ماتحت ججوں کو کسی بھی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں دیئے چاہے وہ آرڈر نواز شریف، شہباز، مریم کیخلاف ہو یا کسی اور کیخلاف۔
Source
Elon Musk loses trillionaire status as global tech rout hits SpaceX
Exchange of interesting words between PM Shehbaz Sharif and Maulana Fazlur Rehman in National Assembly
Khawateen Ki Na Zaiba Videos Bnany Wala Jali Aamal Giraftar
Video: Moment massive 7.5-magnitude earthquake hits Venezuela
Bilawal Bhutto settles scores with Khawaja Asif, Key moments of National Assembly - Details by Rauf Klasra
No intention to install towers on private property - Shaza Fatima's reply











