Menu
Top Rated Posts ....

EXCLUSIVE: Chief Justice Saqib Nisar's Alleged Audio Call Leaked Out

Posted By: Muzamil on November 21, 2021 | 17:43:22


EXCLUSIVE: Chief Justice Saqib Nisar's Alleged Audio Call Leaked Out
چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کال لیک۔ فیصلے ادارے دیتے ہیں
مجھے کہا گیاہےکہ میاں صاحب کو سزا دینی ہے، وہ کہتے ہیں عمران خان کو لانا ہے۔

Youtube




صحیح یا غلط، نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دینی ہو گی، چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریکارڈنگ میں ہدایات

اداروں کا دبائو ہے، ادارے عمران خان کو لانا چاہتے ہیں

اس لیے صحیح یا غلط، میاں صاحب اور بیٹی کو سزا دینی ہو گی

پاکستان میں ‘ادارے’ کا لفظ پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کیلیے استعمال کیا جاتا ہے

ثاقب نثار کا احتساب عدالت کے کسی جج کو نوازشریف کو سزا دینے سے متعلق حکم دینے سے انکار، فیکٹ فوکس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج یا آئی ایس آئی میں سے کسی نے کبھی اس حوالے سے ان پر دبائو نہیں ڈالا

ایک ٹیلیفون ریکارڈنگ جو فارنزک معائنہ کے مطابق بالکل درست ہے، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے فون پر ہدایات جاری کیں کہ کہ نوازشریف اور انکی بیٹی کو سزا ضرور دینی ہے کیونکہ ادارے خان صاحب کو لانا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں ‘ادارے’ کا لفظ پاکستان آرمی اور انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کیلیے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ دونوں وزارتِ دفاع کے ماتحت ڈیپارٹمنٹس ہیں۔

فیکٹ فوکس کو یہ آڈیو تقریباً دو ماہ قبل ملی، اس کا معائنہ کیا گیا اور اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی آواز کی تصدیق ہو جانے کے بعد آڈیو کو فارنزک معائنے کے لیے امریکہ میں ملٹی میڈیا فارنزک کی ماہر ایک اہم فارنزک لیبارٹری "گیریٹ ڈسکوری” بھیجا گیا، گیریٹ ڈسکوری فارنزک کے شعبہ قابل ماہرین پر مشتمل ہے اور اس کے ماہرین امریکی عدالتوں میں فارنزکس سے متعلق ثبوت پیش کرنے جیسے معاملات میں مہارت رکھتے ہیں۔ گیریٹ ڈسکوری کی رپورٹ کے مطابق اس آڈیو کو کسی بھی طرح سے ایڈیٹ یا تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔





آڈیو ریکارڈنگ اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی اس بات سے شروع ہوتی ہے جس کا اقرار وہ سرعام نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کی عدالتوں میں ہونے والے فیصلے ادارے (فوج اور آئی ایس آئی) کرواتے ہیں۔ آڈیو کے مواد اور اس آڈیو میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے جاری کی جانے والی ہدایات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ ہدایات پچیس جولائی سن دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات سے کچھ ہی دن پہلے اس وقت جاری کی گئیں جب سابق وزیراعظم نواز شریف اور انکے خاندان کے افراد کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمہ سنا جا رہا تھا۔





اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہدایات جاری کیں کہ جیسا بھی ہے میاں صاحب (نواز شریف) اور انکی بیٹی (مریم نواز) کو ہر حالت میں سزا دینی ہے۔ "یہ جائز ہے یا نہیں، یہ کرنا ہے،” ثاقب نثار نے فون پر دوسری طرف موجود شخص سے کہا۔ "جو بھی ہے سزا دینی ہے، بیٹی کو بھی۔” ٹیلیفون کال کے دوران جب ثاقب نثار کو بتایا گیا کہ بیٹی کو سزا نہیں بنتی تو انہوں نے کہا، "آپ بالکل جائز ہیں، میں نے "دوستوں” سے بات کی ہے کہ اس پر کچھ کیا جائے، مگر میرے دوستوں نے اتفاق نہیں کیا۔” ثاقب نثار نے مزید کہا کہ "عدلیہ کی آزادہ نہیں رہے گی، تو چلیں۔۔۔”

فیکٹ فوکس سے بات کرتے ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی احتساب عدالت کے کسی جج کو نوازشریف کو سزا دینے سے متعلق حکم نہیں دیا۔ ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ فوج یا آئی ایس آئی میں سے کسی نے کبھی اس حوالے سے ان پر دبائو نہیں ڈالا، ثاقب نثار نے فیکٹ فوکس کو مزید بتایا کہ ان کا میاں نواز شریف سے کوئی بغض نہیں ہے تو وہ ایسا کیوں کریں گے؟

آڈیو کی لفظ بہ لفظ ٹرانسکرپٹ کچھ یوں ہے

ثاقب نثار‏:
Let me be little blunt about it; unfortunately
ہمارے پاس ججمنٹ ادارے دیتے ہیں،
اس میں میاں صاحب کو سزا دینی ہے،،،
اور کہا گیا ہے کہ ہم نے خان صاحب کو لانا ہے،،،
بنتا ہے نہیں، اب کرنا پڑے ،،، بیٹی کو بھی نہیں۔

دوسرا شخص:
لیکن میرے خیال میں بیٹی کو سزا دینی بنتی نہیں ہے۔

ثاقب نثار:
آپ بالکل جائز ہیں ، میں نے اپنے دوستوں سے یہی کہا کہ جی اس پر کچھ کیا جائے اور میرے دوستوں نے اتفاق نہیں کیا ۔
Independence of Judiciary
بھی نہیں رہے گی
تو چلیں۔۔۔



Source: FactFocus



Comments...