Afghan Women Under Taliban: Giving Up on Education, Work and Dreams
2021 میں جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے ان کی زندگیاں بدل گئیں۔ خواتین کو بتایا گیا ہے کہ وہ محرم کے ساتھ بغیر کام پر واپس نہیں جا سکتیں اور نہ ہی عوامی مقامات پر سفر کر سکتی ہیں۔ اور 12 سال سے اوپر کی لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ اب بھی وہی ہے لیکن وہ صرف ان خواتین اور لڑکیوں کو اجازت دے رہے ہیں جو کالے حجاب اور ہر چیز کو مکمل طور پر ڈھانپ کر یونیورسٹی جا رہی ہیں۔
انہوں نے لڑکیوں اور لڑکوں کی کلاسیں بھی الگ کر دی ہیں۔ ایک عورت کی زندگی گھریلو معمولات تک سکڑ کر رہ گئی ہے۔ گروسری کی خریداری اور رشتہ داروں سے ملنے جانا ان کی زندگی میں واحد سرگرمیاں رہ جاتی ہیں۔ 'women for Women International' ایک سول سوسائٹی گروپ ہے جس کا مقصد پوری دنیا کی خواتین اور لڑکیوں کی مدد کرنا ہے۔ تنظیم نے جنوری کے آخر میں افغانستان میں اپنے تربیتی مراکز دوبارہ کھولے۔ ان تربیتی پروگراموں میں بزنس کلاسز اور ہوم اکنامکس شامل ہیں۔ گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے مہینے کے آخر میں پروگرام کے شرکاء کو نقد رقم کی منتقلی دوبارہ شروع کر دی ہے۔
Youtube
DG ISPR's response to Maulana Fazal Ur Rehman's statement about martyrs
Did Iran destroy an F-35? IRGC releases satellite images of US base in Jordan
Hassan Nisar reacts to Mohsin Naqvi's statement about system's collapse
This is his personal opinion - DG ISPR's comments on Mohsin Naqvi's statement
Businessman Mir Raza Ali seen carrying a gun in CCTV footage
Bhook Aur Aflas Ne Logon Ki Bus Karwa Di Hai, Us Waqt Se Bacha Jae Jab Yahan Bhi Jantar Mantar Shuru Ho - Khawaja Saad Rafique











