Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
See what CM KP Sohail Afridi did when a special student came on stage to receive degree See what CM KP Sohail Afridi did when a special student came on stage to receive degree Video: Defendant escapes after bail rejected by Lahore High Court Video: Defendant escapes after bail rejected by Lahore High Court New policy to enter America, Trump changes visa bonds policy New policy to enter America, Trump changes visa bonds policy Bangladesh expels Indian presenter Ridhima Pathak from BPL Bangladesh expels Indian presenter Ridhima Pathak from BPL PTI's strong reaction on DG ISPR's Press Conference - Details by Mansoor Ali Khan PTI's strong reaction on DG ISPR's Press Conference - Details by Mansoor Ali Khan Why PTI is opposing operation against TTP? Umar Cheema's analysis Why PTI is opposing operation against TTP? Umar Cheema's analysis

US decides to increase pressure on Taliban after Taliban impose burqa on Afghan women



خواتین کے لیے مکمل پردہ، امریکہ کا طالبان پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ

امریکہ نے کہا ہے کہ اگر طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو محدود کرنے سے متعلق کیے گئے حالیہ فیصلے واپس نہیں لیے تو ان پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ ’ہم نے اس معاملے پر براہ راست طالبان سے رابطہ کیا ہے۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سنیچر کو افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخونزادہ نے خواتین کے لیے مکمل پردے کو لازمی قرار دیا تھا۔

نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ اگر طالبان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو محدود کرنے سے متعلق اپنے اقدامات واپس نہیں لیتے تو ان پر دباؤ بڑھائیں گے۔
’ہم نے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کی ہے۔ ہم طالبان پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات کرتے رہیں گے کہ وہ ان میں سے کچھ فیصلے واپس لیں اور جو وعدے انہوں نے کیے ان پر عمل کیا جائیں۔‘
انہوں نے طالبان کے خلاف ممکنہ اقدامات کی وضاحت نہیں کی۔
دوسری جانب سے کابل کے شہر نو میں خواتین کی جانب سے مکمل پردے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے۔ سکارف پہنے خواتین نے احتجاجی پوسٹرز اٹھائے ہوئے تھے۔

افغان طالبان کی جانب سے خواتین کے لیے مکمل پردے کے فیصلے پر عالمی سطح پر بھی تنقید ہو رہی ہے۔
ہبت اللہ اخونزادہ کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خواتین خود کو سر سے پاؤں تک ڈھانپنے والا برقع پہنیں جو روایتی اور باعزت طریقہ ہے۔
طالبان کے گذشتہ دور حکومت میں بھی خواتین پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
سنیچر کو جاری حکم نامے میں خواتین کے لیے نیلے ٹوپی والے برقعے کو مناسب قرار دیا گیا ہے۔
طالبان کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری نے جو شرائط پیش کی تھیں ان میں لڑکیوں کی تعلیم کا اہم مطالبہ بھی شامل تھا۔

اگست 2021 میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کے انخلا کے بعد طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھالا تھا۔
بین الاقوامی برادری کے شرائط کے باوجود طالبان نے خواتین کو کام سے روک دیا ہے اور ان کو محرم کے بغیر سفر کرنے کی بھی اجازت نہیں۔
اس کے علاوہ زیادہ تر لڑکیوں کو ساتویں جماعت سے آگے سکول جانے سے روکا گیا ہے۔
امریکہ اور دیگر ممالک نے پہلے ہی سے ترقیاتی امدادی پروگراموں میں کٹوتی کی ہے اور کابل پر قبضے کے بعد بینکنگ کے نظام پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔


Source





Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...