Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Hackers played Pakistan National Anthem on Indian news channels during Presidential speech Hackers played Pakistan National Anthem on Indian news channels during Presidential speech Amazing scene: Turkmenistan witnesses rare Amazing scene: Turkmenistan witnesses rare "Roll Cloud" WhatsApp announces to introduce a new but unique feature WhatsApp announces to introduce a new but unique feature CDA & police arrived to demolish Safdar Abbasi & Naheed Khan's residence in Islamabad CDA & police arrived to demolish Safdar Abbasi & Naheed Khan's residence in Islamabad "TikTok Ka Shauq Mehnga Par Gaya! Kunhar River Kinare Siahon Ka Revo Darya me Beh Gaya Kahna: Injured teacher and tuition center owner speaks to reporter about the incident Kahna: Injured teacher and tuition center owner speaks to reporter about the incident

IHC dismissed case against Imaan Mazari over her remarks against Gen Bajwa


جنرل باجوہ کے خلاف بیان، ایمان مزاری پر درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف فوج کی جانب سے درج کیے گئے نازیبا الفاظ کے استعمال کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔

پیر کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایمان مزاری کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ سنایا۔

ایمان مزاری کی وکیل زینب جنجوعہ نے بتایا کہ عدالتی ہدایت پر ہم تحفظات کے باوجود تفتیش کا حصہ بنے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو کچھ بیان دے رہے تھے وہ کچھ اور ہی لکھ رہے تھے۔

ایمان مزاری کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کو کہا ہم خود تحریری بیان جمع کرائیں گے۔

وکیل کے مطابق پہلے دن کہہ دیا تھا کہ جو لفظ بولا گیا اس کا کوئی جواز نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایمان مزاری آفیسر آف کورٹ ہیں ان کو ایسے الفاظ نہیں بولنے چاہییں۔

چیف جسٹس نے وزارت دفاع کے وکیل سے پوچھا کہ ایمان مزاری معذرت کر چکیں اب مزید کیا چاہتے ہیں؟

وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ ایمان مزاری باقاعدہ پریس میں اپنے بیان پر معافی مانگیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ اس عدالت کے سامنے اپنے بیان پر معذرت کا اظہار کر چکیں۔ اس بیان کا وقت بھی دیکھیں ان کی والدہ کے ساتھ اس وقت کیا ہوا تھا۔

وزارت دفاع کے وکیل نے بتایا کہ ایمان مزاری ہماری بچی کی طرح ہیں لیکن ان کا پرانا کنڈکٹ بھی دیکھا جائے۔ یہ سنہ 2017 سے ایسا کر رہی ہیں.

ایمان مزاری کی وکیل زینب جنجوعہ نےاس پر کہا کہ وزارت دفاع کے وکیل کی 2017 سے کنڈکٹ والی بات فوج کی ایف آئی آر کے پیچھے موجود بدنیتی کا ثبوت ہے اور ثابت کرتا ہے کہ ایف آئی آر کا اندراج کسی کی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے کیا گیا۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست منظور کر لی.


Source

Youtube



Comments...