Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Iran–US deal will be of 14 points - Abbas Araqchi tells some details of the agreement Iran–US deal will be of 14 points - Abbas Araqchi tells some details of the agreement DG Khan: The accused climbed on a palm tree to avoid arrest DG Khan: The accused climbed on a palm tree to avoid arrest Jhang: What do we know about the case of 17-year-old Eshal Fatima? Jhang: What do we know about the case of 17-year-old Eshal Fatima? IRGC claims firing missile at F-16 plane entering Persian Gulf airspace IRGC claims firing missile at F-16 plane entering Persian Gulf airspace Iran launches new wave of retaliatory strikes against US Iran launches new wave of retaliatory strikes against US The United States will be hitting Iran...very hard tonight - Donald Trump tweets The United States will be hitting Iran...very hard tonight - Donald Trump tweets



پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی پولیس نے لاپتہ افراد سے متعلق معاملے میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایک سابق بریگیڈیئر کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں اُنہیں سمن بھی جاری کیےگئے ہیں۔
بریگیڈیئر منصور سعید شیخ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر میں تعینات تھے اور کچھ عرصہ پہلے ہی وہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے لاپتہ افراد سے متعلق تفتیش کے سلسلے میں اب تک آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر لیول کے افسر کو طلب نہیں کیاگیا۔
راولپنڈی کے پوٹھوہار ٹاؤن پولیس کے سربراہ ایس پی ہارون جوئیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق فوجی آفسر کو سپریم کورٹ میں لاپتہ ہونے والے شخص مسعود جنجوعہ سے متعلق دائر درخواست اور ایک بازیاب ہونے والے شخص عمران منیر کے بیان کی روشنی میں شامل تفتیش کیاگیا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق بریگیڈیئر ریٹائرڈ منصور سے تفتیش کرنے والوں میں پولیس کے علاوہ سکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔
عمران منیر نے سنہ دوہزار نو میں سپریم کورٹ میں دیے گئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اُنہیں بریگیڈیئر منصور سعید شیخ نے ایک حراستی مرکز میں رکھا ہوا تھا اور اس کے سامنے والے سیل میں اُنہوں نے مسعود جنجوعہ کو بھی دیکھا تھا۔

اس بیان میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ یہ حراستی مرکز راولپنڈی کے چھاؤنی کے علاقے میں واقع ہے ۔ عمران منیر کے مطابق بریگیڈیئر منصور سعید شیخ اُس وقت آئی ایس آئی میں سیکشن نوے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔
لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سابق وفاقی حکومت یہ موقف اختیار کر چکی ہے کہ مسعود جنجوعہ افغانستان میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں مارے جاچکے ہیں۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ مجاز حکام کی طرف سے عدم تعاون کی وجہ سے ان درخواستوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔ بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سنہ دو ہزار پانچ سے چل رہا ہے لیکن ابھی تک اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
اُنہوں نے کہا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ان اداروں میں کچھ اہلکار غلط کام کر رہے ہوں لیکن ان سرکاری افراد کے خلاف ہونے والی کارروائی سے متعلق بھی کچھ نہیں بتایا جا رہا۔
چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے پوچھ کر بتائیں کہ وہ لاپتہ افراد سے متعلق کوئی عملی اقدام کرنے کو تیار ہے یا پھر سپریم کورٹ اس ضمن میں خود فیصلہ دے۔


Source: BBC News



Comments...