Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
I am not asking you - Bilawal Bhutto scolds Shazia Marri during discussion I am not asking you - Bilawal Bhutto scolds Shazia Marri during discussion Drug dealer Anmol Pinky had already appointed her successor before arrest, Another leaked audio reveals Drug dealer Anmol Pinky had already appointed her successor before arrest, Another leaked audio reveals London: Former imam sentenced to life for sexual assaults London: Former imam sentenced to life for sexual assaults US President Donald Trump receives amazing welcome in China US President Donald Trump receives amazing welcome in China Chinese Soldier Standing Near Trump’s Plane Goes Viral for Discipline Chinese Soldier Standing Near Trump’s Plane Goes Viral for Discipline Before leaving China, the American crew threw away everything given to them by Chinese authorities Before leaving China, the American crew threw away everything given to them by Chinese authorities

Revolutionary step in medical science: 13 years old girl cured of cancer through gene editing



ماہرین کا جین ایڈیٹنگ کے ذریعے کینسر ختم کرنے کا دعویٰ

برطانوی ماہرین نے ایک 13 سالہ بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کرکے کینسر کے کامیاب علاج کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جس بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کی گئی، وہ بچی کیموتھراپی اور بون میورو کے ٹرانسپلانٹ کے باوجود صحت یاب نہیں ہو پائے تھی، جس کے بعد سائنسدانوں نے آخری امید کے طور پر ان کے ڈی این اے کے چار کوڈز کو تبدیل کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق برطانوی ماہرین نے بلڈ کینسر کی شکار 13 سالہ بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کی، جس کے بعد ان کا ایک اور بون میورو ٹرانسپلانٹ کیا گیا، جس کے بعد اب بچی میں کینسر کی علامات غائب ہوگئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گریٹ آرمنڈ اسٹریٹ ہسپتال کے ماہرین نے 13 سالہ بچی کے چار جینیاتی کوڈز ’ایڈنائن‘ (اے) ’سائٹوسین‘ (سی) ’گوانائن‘ (جی) اور ’تھائمین‘ (ٹی) کو بیس ایڈیٹنگ نامی نئے بائیولاجیکل انجنیئرنگ کے طریقے کے تحت تبدیل کیا۔

یہ طریقہ چند سال قبل ہی تخلیق کیا گیا تھا اور اس یہ طریقہ سائنسدانوں کو جینیاتی کوڈز کو انتہائی قریب سے دیکھ کر انہیں تبدیل کرنے یا ایک دوسرے سے ملانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

ماہرین نے مذکورہ طریقے کو استعمال کرتے ہوئے مریض بچی کے چار جینیاتی کوڈز کو تبدیل کیا، جس کے بعد بچی اگرچہ ابتدائی طور پر انتہائی کمزور ہوگئی، تاہم بون میورو ٹرانسپلانٹ اور تین ماہ کے علاج کے بعد وہ صحت یاب ہوگئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹرز کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران دو مرتبہ چیک اپ کیے جانے پر مریض بچی میں کینسر کی کوئی علامت نہیں دیکھی گئی اور اب وہ بلکل صحت مند ہے۔

برطانوی ماہرین نے بتایا کہ مذکورہ طریقہ علاج 6 سال قبل ہی تیار کیا گیا تھا اور تاحال یہ طریقہ عام نہیں ہو پایا اور 13 سالہ مریض بچی ان 10 افراد میں سے پہلی فرد ہیں، جنہیں اس طریقہ علاج کے لیے منتخب کیا جا چکا ہے۔

مذکورہ طریقہ علاج کو بہت پیچیدہ اور محنت طلب بتایا جا رہا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس طریقہ علاج سے سال میں صرف ایک درجن مریض ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


Source





Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...