Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Gutter Journalism Exposed: Meera’s Controversial Interview with Irshad Bhatti & Rehan Tariq Gutter Journalism Exposed: Meera’s Controversial Interview with Irshad Bhatti & Rehan Tariq Iran–US Talks: What is happening in Islamabad? Aizaz Syed reports Iran–US Talks: What is happening in Islamabad? Aizaz Syed reports PM Shehbaz, Field Marshal Asim Munir did historic work to enhance Pakistan's prestige - Nawaz Sharif praises Pakistan's leadership PM Shehbaz, Field Marshal Asim Munir did historic work to enhance Pakistan's prestige - Nawaz Sharif praises Pakistan's leadership Breaking News: US Marines seized Iranian ship crossing Strait of Hormuz Breaking News: US Marines seized Iranian ship crossing Strait of Hormuz PM Shehbaz Sharif tweets after extension in ceasefire PM Shehbaz Sharif tweets after extension in ceasefire China expresses concern over Iranian ship's seizure China expresses concern over Iranian ship's seizure

Ulema come to rescue the CAA employee who accused Christian lady of blasphemy in Karachi



گزشتہ روز کراچی ایئرپورٹ کے کارگو ایئر میں تعینات خاتون سیکورٹی انچارچ کو اپنے ہی محکمے کے ایک ملازم نے دھمکی دی کہ اگر وہ اس کی کار کو اندر آنے سے روکتی ہیں تو وہ اس پر توہینِ رسالت کا الزام لگا دے گا اور مولویوں کا بلا کر اسے قتل کروا دے گا۔ خوش قسمتی سے مسیحی خاتون آفیسر نے اسی وقت ویڈیو بنا لی جس میں ملازم کی ساری دھمکیاں ریکارڈ ہوگئیں۔ وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لوگوں کے سخت ردعمل کے بعد آصف زرداری نے نوٹس لیا اور مذکورہ ملازم کو معطل کردیا گیا اور انکوائری شروع کردی گئی۔

اس معاملے پر علامہ ضیاء اللہ کی قیادت میں علمائے کرام نے ایک اجلاس طلب کیا جس میں ثمینہ نامی مسیحی خاتون آفیسر اور سلیم نامی مذکورہ ملازم کو بلایا گیا۔ علمائے کرام نے مسیحی خاتون ثمینہ سے گزارش کی کہ وہ درگزر سے کام لیں اور سلیم کو معاف کردیں۔ علماء کرام کے کہنے پر ثمینہ نے سلیم کو معاف کردیا۔ علماء امن کونسل نے ثمینہ کے سلیم کو معاف کرنے پر چیئرمین سول ایوی ایشن کو خط لکھا اور معاملے کو رفع دفع کرنے کی گزارش کی۔

فواد چوہدری نے اس پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا "یہ جو مذہب کے بیوپاری ہیں، یہ سب سے بڑی بیماری ہیں"۔

احمد نورانی نے ٹویٹ کیا "لعنت ہے ایسے بے غیرت، غلیظ اور گھٹیا علما پر جو ایسی حرکتیں کر کے نبی رحمت ﷺ اور انکے مذہب کے بارے میں اقوام عالم میں غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔ اسلام کی نیک نامی اور مذہب مصطفٰے کو بچانے کیلیے ایسے ذلیل علما کا مکمل خاتمہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔"۔

ایک اور صارف ابن الحسن نے لکھا "ایک بہادر کرسچن خاتون کے خلاف بدمعاشوں کی حمایت میں علماء میدان میں آگئے۔ صلح تو بیچارہ نے کرنی ہی تھی"۔

ایک صارف عمران احسن مرزا نے لکھا "یہ بدمعاش علماء کہاں تھے جب آسیہ بی بی کو بےوجہ توہین کے جرم میں جیل رکھا ہوا تھا"۔

ایک صارف رومیصہ عمر نے لکھا "شرم کا مقام ہے۔ ان علما کو چاہیئے تھا اس ظالم انسان کو کڑی سزا دلواتے جو حقیقت میں توہین رسالت کر رہا تھا اس طرح کی دھمکی سے۔
منافقت کا اعلی ترین درجہ صدیوں سے ہمارے مذہبی علما نے حاصل کر رکھا ہے"۔









Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...