Federal Shariat court terms transgender act against Islam
خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کر سکتے، نہ ہی خود کو مرد یا عورت کہلوا سکتے ہیں: عدالت
وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین نے خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق ٹرانسجینڈر ایکٹ کےخلاف درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی خود کو مرد یا عورت کہلوا سکتے ہیں۔
وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کو سیکشن 2 اور 3 اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا، عدالت نے کہا کہ ٹرانسجینڈرز پروٹیکشن ایکٹ کا سیکشن 7 بھی خلاف اسلام وشریعت ہے، جسمانی خدوخال اور خودساختہ شناخت پرکسی کو ٹرانسجینڈر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
عدالت نے کہا کہ حکومت خواجہ سراؤں کو تمام حقوق دینے کی پابند ہے، اسلام خواجہ سراؤں کو تمام انسانی حقوق فراہم کرتا ہے۔
وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈرز پروٹیکشن ایکٹ کےخلاف دائردرخواستیں نمٹادیں۔
Source
Youtube
Eye-opening Revelations in confessional statement of terrorist injured in Rangers camp attack in Karachi
Oye Saman Uthao, Ab Nhn Chalay Ga - Maryam Nawaz warns against abuse of authority in PERA
Iran's retaliation strikes on US installations in Bahrain and Kuwait
Saudi Aramco helicopter crash kills 14 on board in Ras Tanura
Iran’s FM Araqchi's major statement on Strait of Hormuz and peace solution
Trump issues new warning to Iran after striking sites in Iran












