Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Video: A family nearly escapes before Colombia earthquake shakes their house in front of their eyes Video: A family nearly escapes before Colombia earthquake shakes their house in front of their eyes Lahore’s ‘She Drives’ App: Women drive to women passengers Lahore’s ‘She Drives’ App: Women drive to women passengers Yadgar e Fatah Ceremony - PAF spectacular air show in Islamabad Yadgar e Fatah Ceremony - PAF spectacular air show in Islamabad Victory in Marka-e-Haq: President, PM and Field Marshal inaugurate victory monument Victory in Marka-e-Haq: President, PM and Field Marshal inaugurate victory monument Peshawar: Woman arrested for throwing acid on a man for refusing to marry her Peshawar: Woman arrested for throwing acid on a man for refusing to marry her China rejects India’s move to rename Arunachal Pradesh China rejects India’s move to rename Arunachal Pradesh

Lahore Ke Institute Ke Seminar Mein Presentation Ke Dauran "Fuhash" Video Chal Gai



لاہور: انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے سیمینار میں پریزینٹیشن کے دوران فحش ویڈیو چل گئی۔

تفصیلات کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور میں "نیو انیشی ایٹیوز آن ڈینگی اینڈ سچویشن ان پاکستان" کے سیمینار کے آغاز میں ہی ایک سلائیڈ سے اچانک فحش ویڈیو چل گئی جس سے سیمینار میں افراتفری پھیل گئی۔ سیمینار میں خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی جن میں سے اکثریت اٹھ کر باہر چلی گئی۔

سیمینار کے مہمان خصوصی نگران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم تھے جبکہ اندرونِ و بیرون ممالک سے بھی ماہرین نے شرکت کرنا تھا کہ اچانک زوم کے ایک ممبر کی جانب سے میٹنگ کے آغاز میں ہی اس کے لیپ ٹاپ سے فحش ویڈیو آن ہوگئی جس کو سیمینار میں موجود تمام مرد و خواتین نے دیکھ کر ملٹی میڈیا آپریٹر کو فوری طور پر ختم کرنے کیلئے شور مچایا، جبکہ ہال میں موجود خواتین کی بڑی تعداد باہر نکل گئی۔ ان خواتین سے معذرت کرنے اور ان کو واپس اندر لانے کیلئے انتظامیہ کے افراد نے منت سماجت کی اور فحش ویڈیو چلنا ایک غلطی قرار دی۔

سیمینار میں موجود شرکاء کا کہنا تھا کہ ہم نے آج تک سینکڑوں زوم میٹنگز اور سیمینارز میں شرکت کی مگر انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی طرح کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کہیں نہیں دیکھا۔ شرکاء نے کہا کہ انتظامیہ کو چاہئے تھا کہ کوئی ماہر ملٹی میڈیا آپریٹر رکھتے جو فحش ویڈیو کو فوری طور پر ہٹا دیتا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی انتظامیہ 2 منٹ تک فحش ویڈیو کو ہٹانے میں ناکام رہی لہذا اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے۔ شرکاء نے صوبائی وزیر صحت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی تک واقعے کا نوٹس ہی نہیں لیا۔



Comments...