Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Haseena Wajid's speech sparks new tension between India & Bangladesh Haseena Wajid's speech sparks new tension between India & Bangladesh Mohsin Naqvi tweets about his meeting with PM Shehbaz regarding Pakistan team's participation in the T20 World Cup Mohsin Naqvi tweets about his meeting with PM Shehbaz regarding Pakistan team's participation in the T20 World Cup New York Mayor Zohran Mamdani removing snow from streets, Video goes viral New York Mayor Zohran Mamdani removing snow from streets, Video goes viral US climber Alex Honnold completes rope-free climb up Taipei 101 skyscraper US climber Alex Honnold completes rope-free climb up Taipei 101 skyscraper Opinion divided on Iman Mazari's arrest, New controversy on Ansar Abbasi's story - Details by Omar Cheema Opinion divided on Iman Mazari's arrest, New controversy on Ansar Abbasi's story - Details by Omar Cheema Sohail Afridi gives 24 hour deadline, Iran gets new support - Details by Mansoor Ali Khan Sohail Afridi gives 24 hour deadline, Iran gets new support - Details by Mansoor Ali Khan

The driver who delivered shoes at my house has been picked up - Imran Khan's tweet


عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے گھر جوتے ڈیلیور کرنے والے ڈرائیور کو اٹھا لیا گیا ہے۔ عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا

وہ ڈرائیور جو میری رہائشگاہ پر جوتے دینے آیا بالآخر پولیس کی جانب سے اس کے گاؤں سے اٹھا لیا گیا ہے۔ مقامی پولیس نے اس کے اہلِ خانہ کو بتایا ہے کہ لاہور پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ان پر محض اس لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کیونکہ اس نے ایک ڈبّہ (پارسل) زمان پارک پہنچایا تھا۔

ایک دن سے کچھ زائد کا وقت بیت چکا ہے اور اس کے اہلِ خانہ (مقامی طور پر) تمام تھانے بھی چیک کر چکے ہیں مگر ابھی تک اس کا کچھ بھی سراغ (اَتَا پتَا) نہیں۔

بزورِ جبر اسے ایک (جھوٹے) اعترافی بیان کہ وہ عمران خان کی رہائش گاہ پر منشیات چھوڑ کر آیا تھا، پر مجبور کرنے کیلئے یہ سب کیا جا رہا ہے۔

ایک اور جھوٹے اور جعلی مقدمے میں مجھے نامزد کرنے کی مایوس کن اور بھونڈی خواہش میں ایک غریب آدمی اور اس کے اہلِ خانہ کو ڈرانے، دھمکانے اور ہراساں کرنے کے ساتھ اس اذیّت سے دوچار کیا جا رہا ہے۔

ان 14 ماہ کے دوران جب بھی میں سوچتا کہ اب اس سے بڑھ کر کیا حالات خراب ہوں گے یا کوئی حکومت واقعی اپنے شہریوں سے ایسا وحشیانہ برتاؤ کرسکتی ہے تو ہر مرتبہ مجھے شدید دھچکہ لگتا کیونکہ ہر مرتبہ یہ (میرے تصوّر و خیال سے کہیں زیادہ) نیچے گرتے۔

اور بدقسمتی سے (شہریوں کو) ہمارے نظامِ عدل سے کچھ بھی تحفّظ میسّر نہیں۔





Comments...