Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Umar Cheema's comments on Maulana Tariq Jameel's viral video Umar Cheema's comments on Maulana Tariq Jameel's viral video South Air's first ATR 72-500 aircraft arrives in Pakistan South Air's first ATR 72-500 aircraft arrives in Pakistan US releases details on alleged UFOs and Aliens US releases details on alleged UFOs and Aliens US forces strike on Iran-flagged tankers trying to evade the Strait of Hormuz blockade US forces strike on Iran-flagged tankers trying to evade the Strait of Hormuz blockade Russia rejects US Anti-Iran resolution presented in UN Security Council Russia rejects US Anti-Iran resolution presented in UN Security Council Live: Marka-e-Haq Anniversary Ceremony at GHQ, Field Marshal Syed Asim Munir is chief guest Live: Marka-e-Haq Anniversary Ceremony at GHQ, Field Marshal Syed Asim Munir is chief guest

Breaking News: Denmark passes law to ban Quran burnings in public places

Posted By: Saif, December 07, 2023 | 18:37:18

Breaking News: Denmark passes law to ban Quran burnings in public places


ڈنمارک کی پارلیمان نے جمعرات کو عوامی مقامات پر قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کو غیر قانونی قرار دینے کا قانون منظور کر لیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ یا دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسلام کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کے خلاف مسلم ممالک میں مظاہروں کے بعد ڈنمارک کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈنمارک اور سویڈن میں رواں سال عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جہاں اسلام مخالفوں نے قرآن مجید کو نذر آتش کیا یا نقصان پہنچایا جس سے مسلمانوں کے ساتھ کشیدگی بڑھ گئی اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ نارڈک حکومتیں اس عمل پر پابندی عائد کریں۔

ڈنمارک نے مذہب پر تنقید کرنے کے حق سمیت اظہار رائے کی آزادی جسے آئینی تحفظ حاصل ہے اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی کیوں کہ خدشہ تھا کہ قرآن نذر آتش کرنے سے اسلام پسندوں کی جانب سے حملے شروع ہو سکتے ہیں۔

سویڈن اور ڈنمارک کے مقامی ناقدین کا استدلال ہے کہ مذہب پر تنقید پر پابندی بشمول قرآن جلا کر مذہب پر تنقید پر پابندی سے ان لبرل آزادیوں کو نقصان پہنچتا ہے جو سخت جدوجہد کے بعد حاصل کی گئیں۔

پابندی کی مخالفت کرنے والے اور ترک وطن کے خلاف مہم کے رہنما انگر سٹوجبرگ کے بقول: ’تاریخ اس کے لیے ہمیں سختی سے جانچے گی، اور معقول وجہ کے ساتھ ... یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا اظہار رائے کی آزادی پر پابندی کا تعین ہم کرتے ہیں یا اس کا حکم باہر سے دیا جاتا ہے۔‘

ڈنمارک کی اعتدال پسند مخلوط حکومت نے دلیل دی کہ نئے قوانین کا اظہار رائے کی آزادی پر معمولی اثر پڑے گا اور دوسرے طریقوں سے مذہب پر تنقید کرنا قانونی رہے گی۔

سویڈن بھی قرآن کی بے حرمتی کو قانونی طور پر محدود کرنے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے لیکن ڈنمارک کے مقابلے میں اس کا نقطہ نظر مختلف ہے۔

وہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا عوامی مظاہروں کے لیے درخواستوں پر فیصلہ کرتے وقت پولیس کو قومی سلامتی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔


Source



Comments...