Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Norway football team under fire after controversial photo shoot Norway football team under fire after controversial photo shoot Breaking News: Iran announces end to attack on Israel Breaking News: Iran announces end to attack on Israel What is happening to Pakistanis in UAE? A Deportee Speaks Out What is happening to Pakistanis in UAE? A Deportee Speaks Out Acid attack on lady doctor at Quetta civil hospital Acid attack on lady doctor at Quetta civil hospital 64 years old husband tells how and why he killed his 58 years old wife 64 years old husband tells how and why he killed his 58 years old wife Alleged leaked audio of Joint Public Action Committee top leadership Alleged leaked audio of Joint Public Action Committee top leadership

Moeed Pirzada's tweet on Najam Sethi's statement regarding Martial Law


نجم سیٹھی نے گزشتہ روز اپنے شو میں کہا کہ اگر عدلیہ اسی طرح پی ٹی آئی کو فیور دیتی رہی تو اسٹیبلشمنٹ مارشل لاء لگا دے گی۔ اس پر معید پیرزادہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا

ممتاز تجزیہ کار، نجم سیٹھی صاحب نے خبردار کیا ہے کہ اگر عدلیہ کی طرف سے چیلنج ختم نہ ہوا تو پاکستانی فوج کو ایمرجنسی یا مارشل لا لگانا پڑ جاے گا! سیٹھی صاحب کا شمار پاکستان کے ذہین ترین لوگوں میں ہوتا ہے، اور انھیں پاکستان کے طاقتور حلقوں تک رسائی ہے، اور ان کے بات اور منطق میں وزن بھی ہے!
مگر مجھے شک ہے کہ جو اپریل ۲۰۲۲ سے اب تک ۲۵ ماہ گزر چکے ہیں، جرنل عاصم کو چیف چیف کھیلتے تقریبا ۱۹ ماہ گزر گئے ہیں، اور ۹ مئی ۲۰۲۳ کا ناٹک Undeclared Martial Law کے لئے کھیلا گیا تھا، ایک سال کے بے انتہا جبر کے بعد نظام ایکبار پھر بہت کمزور ہو چکا ہے، جو جج اٹھ کھڑے ہوے ہیں، ان کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں، ان کی Defiance ایک قدرتی تاریخی عمل کا نتیجہ ہے! نواز شریف نے جرنل عاصم کو چیف بنایا تھا، مگر نواز شریف سیاسی موت مر چکے ہیں! اب فوج مارشل لا کس کے لئے لگائی گئی؟
مارشل لا کے اپنے dynamics ہوتے ہیں! ۱۹۵۸ سے ویسے تو تقریباً ۶۶-۷۰ برس سے مسلسل فوج ہی حکومت کر رہی ہے، درمیان میں چار فارمل declared Martial Law بھی لگائے گئے، جو اس چیز کا ثبوت ہے کہ چیزیں کام نہیں کر رہی ہیں! ویسے تو پاکستان کے جنگل کے قانون میں کچھ بھی کیا جا سکتا ہے، ۲۵ مارچ ۱۹۷۱ کو جرنل یحییٰ نے عالم اضطراب میں یہی سوچا تھا کہ فوجی ایکشن سے صورتحال قابو میں آ جاے گئی! اسی طرح موجودہ حالات میں ایسی سوچ ہو سکتی ہے! مگر یاد رہے کہ ۹ مئی کا ناٹک کھیلا جا چکا ہے، اور سسٹم مزید تجربات کا متمحل نہیں ہو پاے گا۔





Comments...