Kamran Khan's tweet on General (R) Faiz Hameed's arrest
جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری پر کامران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید سخت ترین مصیبت میں پھنس چکے ہیں نہ صرف ان کو کورٹ مارشل کا سامنا ہے، وہ ممکنہ طور پر اپنے رینک، ریٹائرمنٹ کے بعد کی بعد حاصل کردہ تمام مراعات بشمول پینشن پلاٹس وغیرہ اور دیگر فوجی خدمات کے فوائد سے محروم ہو سکتے ہیں، اور غالباً ممکنہ طور پر ایک طویل سزائے قید ابھی ن کی منتظر ہے۔
اپنے وقت کے مرد آہن سیاسی منظر نامے کے سیاہ سفید کے مالک جنرل فیض کے انجام کا یہ عبرتناک ممکنہ منظرنامہ حال ہی میں ابھرا جب مزید سنگین الزامات کی تصدیق کے علاوہ، ایک دو ستارہ جنرل کی سربراہی میں 4 ماہ کی فوجی تحقیقات نے ان کے خلاف سنگین الزامات کے ٹھوس شواہد اکٹھے کیے ان الزامات میں ٹاپ سٹی بلڈر لمیٹڈ کے مالک کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل فیض کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تصدیق بھی شامل ہے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ٹاپ سٹی بلڈر کے مالک نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 12 مئی 2017 کو جنرل فیض کے کہنے پر آئی ایس آئی حکام نے اعلیٰ سٹی آفس اور شکایت کنندہ کے گھر پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے گھر سے سونا، ہیرے اور رقم سمیت قیمتی سامان قبضے میں لے لیا۔ سپریم کورٹ نے تحقیقات کا حکم دیا تھا بتایا گیا ہے کہ چار ماہ کی طویل تحقیقات کے نتائج بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض کو فوجی ایکٹ کے متعلقہ سیکشنز کی سنگین خلاف ورزیوں میں بھی ملوث پایا گیا ہے ملٹری ایکٹ کی یہ شقیں ہیں جو ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں پر بھی لاگو ہوتی ہیں جنرل فیض گرفتار ہیں کورٹ مارشل جاری ہے اور سزا کا انتظار ہے یہ وہی جنرل فیض ہیں جو سال 2021 میں اپنے آپ کو آئیندہ آرمی چیف بنوانے کی بساط بچھا چکے تھے مگر نصیب میں کچھ اور لکھا ہوا تھا
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید سخت ترین مصیبت میں پھنس چکے ہیں نہ صرف ان کو کورٹ مارشل کا سامنا ہے، وہ ممکنہ طور پر اپنے رینک، ریٹائرمنٹ کے بعد کی بعد حاصل کردہ تمام مراعات بشمول پینشن پلاٹس وغیرہ اور دیگر فوجی خدمات کے فوائد سے محروم ہو سکتے ہیں، اور… pic.twitter.com/7rdwscBVPL
— Kamran Khan (@AajKamranKhan) August 12, 2024
Norway football team under fire after controversial photo shoot
What is happening to Pakistanis in UAE? A Deportee Speaks Out
Differences among PTI on 10th June protest - Sheikh Waqas Akram's analysis
Acid attack on lady doctor at Quetta civil hospital
64 years old husband tells how and why he killed his 58 years old wife
US Iran talks: Interior Minister Mohsin Naqvi reached Tehran













