Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Donald Trump rescues toddler from running off the stage, Jokes 'Didn't Want Him To Be Like Biden' Donald Trump rescues toddler from running off the stage, Jokes 'Didn't Want Him To Be Like Biden' You can not recall or mention a single achievement of Imran Khan as PM for three years? Klasra to Asad Umar on X(twitter) You can not recall or mention a single achievement of Imran Khan as PM for three years? Klasra to Asad Umar on X(twitter) Asad Umar's views on Mohsin Naqvi's statement Asad Umar's views on Mohsin Naqvi's statement Javed Chaudhry joins SAMAA TV, Starts exclusive show with Abdul Sattar Khan Javed Chaudhry joins SAMAA TV, Starts exclusive show with Abdul Sattar Khan Defence analyst Maria Sultan's views on Pak–Saudi–Turkey trilateral defense pact Defence analyst Maria Sultan's views on Pak–Saudi–Turkey trilateral defense pact Major political development as government once again invites PTI for talks Major political development as government once again invites PTI for talks

Kamran Khan's tweet on General (R) Faiz Hameed's arrest

Posted By: Atif, August 13, 2024 | 05:23:49

Kamran Khan's tweet on General (R) Faiz Hameed's arrest


جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری پر کامران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید سخت ترین مصیبت میں پھنس چکے ہیں نہ صرف ان کو کورٹ مارشل کا سامنا ہے، وہ ممکنہ طور پر اپنے رینک، ریٹائرمنٹ کے بعد کی بعد حاصل کردہ تمام مراعات بشمول پینشن پلاٹس وغیرہ اور دیگر فوجی خدمات کے فوائد سے محروم ہو سکتے ہیں، اور غالباً ممکنہ طور پر ایک طویل سزائے قید ابھی ن کی منتظر ہے۔

اپنے وقت کے مرد آہن سیاسی منظر نامے کے سیاہ سفید کے مالک جنرل فیض کے انجام کا یہ عبرتناک ممکنہ منظرنامہ حال ہی میں ابھرا جب مزید سنگین الزامات کی تصدیق کے علاوہ، ایک دو ستارہ جنرل کی سربراہی میں 4 ماہ کی فوجی تحقیقات نے ان کے خلاف سنگین الزامات کے ٹھوس شواہد اکٹھے کیے ان الزامات میں ٹاپ سٹی بلڈر لمیٹڈ کے مالک کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل فیض کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تصدیق بھی شامل ہے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ٹاپ سٹی بلڈر کے مالک نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 12 مئی 2017 کو جنرل فیض کے کہنے پر آئی ایس آئی حکام نے اعلیٰ سٹی آفس اور شکایت کنندہ کے گھر پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے گھر سے سونا، ہیرے اور رقم سمیت قیمتی سامان قبضے میں لے لیا۔ سپریم کورٹ نے تحقیقات کا حکم دیا تھا بتایا گیا ہے کہ چار ماہ کی طویل تحقیقات کے نتائج بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض کو فوجی ایکٹ کے متعلقہ سیکشنز کی سنگین خلاف ورزیوں میں بھی ملوث پایا گیا ہے ملٹری ایکٹ کی یہ شقیں ہیں جو ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں پر بھی لاگو ہوتی ہیں جنرل فیض گرفتار ہیں کورٹ مارشل جاری ہے اور سزا کا انتظار ہے یہ وہی جنرل فیض ہیں جو سال 2021 میں اپنے آپ کو آئیندہ آرمی چیف بنوانے کی بساط بچھا چکے تھے مگر نصیب میں کچھ اور لکھا ہوا تھا





Comments...