Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Murad Saeed's first exclusive interview after a very long time Murad Saeed's first exclusive interview after a very long time Umar Cheema's comments on Maulana Tariq Jameel's viral video Umar Cheema's comments on Maulana Tariq Jameel's viral video Court takes notice of alleged cocaine dealer Anmol’s appearance in court without handcuffs Court takes notice of alleged cocaine dealer Anmol’s appearance in court without handcuffs Exclusive details of Iran's reply to US proposal Exclusive details of Iran's reply to US proposal Live: Marka-e-Haq Anniversary Ceremony at GHQ, Field Marshal Syed Asim Munir is chief guest Live: Marka-e-Haq Anniversary Ceremony at GHQ, Field Marshal Syed Asim Munir is chief guest CM Maryam Nawaz joins Maarka-e-Haq ceremony at Wagah Border CM Maryam Nawaz joins Maarka-e-Haq ceremony at Wagah Border

Hammad Azhar's message to Imran Khan via tweet regarding grouping in PTI


حماد اظہر نے عمران خان کے نام تفصیلی ٹویٹ کرکے عمران خان کو پارٹی کے اندرونی اختلافات اور گروپنگ سے آگاہ کردیا۔ ملاحظہ کیجئے حماد اظہر کی ٹویٹ۔

چونکہ میرا خان صاحب سے رابطہ نہیں ہے اس لئے میں ان تک کچھ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں۔ بطور مجبوری سوشل میڈیا کا استعمال کر رہا ہوں کیونکہ پیغام رساں ہی اس وقت اصل مسائل کی جڑ ہیں۔

محترم قائد عمران خان صاحب،

آپ کے ساتھ کھڑا ہو اور انشاللہ کھڑا رہوں گا۔ ہماری تحریک کامیاب ہے اللہ کے حکم سے فتح قریب ہے۔ سال سے زائد سے گھر سے دربدر ہوں اور کاروبار کو بھی شدید تقصان پہنچا ہے لیکن اللہ نے استقامت عطا کی ہے۔ آپ کی غیر موجودگی میں پارٹی کو 8 فروری سے پہلے تک جوڑ کر رکھا۔ تمام لوگ زیر تاب تھے اور ایک پیج پر بھی۔ پارٹی میں دھرے بندی بھی نہیں تھی لیکن الیکشن میں کامیابی کے بعد کچھ لوگ حکومت میں آ گئے، کچھ پارلیمان میں اور کچھ اب بھی زیر تاب۔ یہ تین گروپ ہیں جن کے اب مفادات اور سوچ مختلف ہیں۔ ان سب کو ایک پیج پر آپ لے کر آئیں اور کسی شخص کو آپ کی سوچ سے مختلف حکمت عملی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ آپ سے مختلف سوچ رکھنے والے کسی فرد کو چاہے وہ کوئی بھی ہوسکرین پر جانے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہئیے۔

پارٹی میں دو اور گروپ بھی ہیں۔ ان دونوں کا تعلق دو مختلف پیغام رساؤں سے ہے۔ یہ لوگ ضرورت سے زیادہ اہمیت حاصل کر گئے ہیں اور پارٹی میں اپنے من پسندوں کے بارے آپ کو خاص feedback دیتے ہیں اور اپنی پسند کے الفاظ آپ کی زبان سے نکلوا لیتے ہیں۔ اس کا سادہ حل ہے کے آپ زیادہ سے زیادہ سیکٹری جنرل اور شبلی فراز کو ملا کریں اور باقی 4 لوگ ہر ہفتے تبدیل کریں۔ عمر اور شبلی ذمےدار اور mature لوگ ہیں اور ان کی وجہ سے ہی پارٹی نے مشکل وقت کاٹا لیکن ان کے آپ سے ملاقات اتنی نہیں ہوتی جتنی ہونی چاہیے۔ اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو باقی 4 slots کا rotation بنا کر ملیں تا کے آپ کی معلومات کا دائرہ وسیع ہو۔

خواتین کے ملنے کے اوقات میں بھی آپ ہر ہفتے خواتین ونگ کی عہدیدیران کو ملیں اور نئے چہروں کا رول محدود کریں۔ ان میں ابھی اتنی سمجھ اور پختگی نہیں اور بہت سی معاملات میں خرابی اور آپ کو غلط feedback کی وجہ ثابت ہوتی ہیں۔

یہ کوئی اتنے بڑے مسائل نہیں ہیں کے انھیں عبور نا کیا جا سکے۔ صرف آپ تک access کا بہت غلط استعمال ہو رہا ہے اور اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر انھیں ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تو شدید نقصان دہ ہے۔

میں پارٹی عہدے کا خواہش مند نا ہوں اور نا تھا اور پہلے بھی آپ کے اسرار پر یہ ذمے داری لی تھی۔ پاڑٹی کے لئے کام کرتا رہوں گا لیکن بغیر کسی عہدے کے۔ میں سمجھتا ہوں کے موجودہ حالات میں میرے لئے مناسب راستہ یہ ہی ہے۔





Comments...