Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Iran unveils Former Iran's Supreme Leader Ali Khamenei's coffin ahead of funeral Iran unveils Former Iran's Supreme Leader Ali Khamenei's coffin ahead of funeral Pakistan's top leadership, PM Shehbaz, Field Marshal attend the funeral of Ayatollah Syed Ali Khamenei Pakistan's top leadership, PM Shehbaz, Field Marshal attend the funeral of Ayatollah Syed Ali Khamenei Pakistan Air Force officer martyred while saving a woman in Islamabad, How it happened? Pakistan Air Force officer martyred while saving a woman in Islamabad, How it happened? Lahore assault case: Foreign women make startling revelations in court statements Lahore assault case: Foreign women make startling revelations in court statements Who is the BOSS in Lahore women assault case? Mansoor Ali Khan shared storyline of the incident Who is the BOSS in Lahore women assault case? Mansoor Ali Khan shared storyline of the incident Indian PM Modi's hypocrisy exposed as he skips Iranian Supreme Leader's funeral Indian PM Modi's hypocrisy exposed as he skips Iranian Supreme Leader's funeral

Rauf Klasra's tweet on Imran Khan's performance in his 3.5 years tenure

Posted By: Atif, September 03, 2024 | 17:55:58

Rauf Klasra's tweet on Imran Khan's performance in his 3.5 years tenure


رؤف کلاسرا نے ٹویٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آکسفورڈ چانسلر کے لیے عمران خان کے حامی ان کے سوشل ورک کو ہائی لائٹ کررہے ہیں کہ وزیراعظم بننے سے پہلے ہسپتال بنایا،کالج بنایا لیکن ان کے بطور وزیراعظم ساڑھے تین سالوں کی کارگردگی بارے زیادہ خاموشی ہے کہ کیا کارنامے سرانجام دیے۔کیا وجہ ہے؟

اس پر نسیم صدیقی نامی ایک ٹویٹر صارف نے جواب دیتے ہوئے لکھا "کووڈ میں انڈسٹری کی بہترین پرفارمنس، ریکارڈ ریمیٹنسز،ریکارڈ ایکسپورٹ، ریکارڈ ٹیکس کولیکشن، ریکارڈ کنسٹرکشن بزنس، غریبوں کے لیئے لنگر خانے، احساس پروگرام۔ بس یا اور"۔

رؤف کلاسرا نے ٹویٹر صارف نسیم صدیقی کی ٹویٹ کے جواب میں طویل ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا

نسیم بھائی کچھ کارنامے آپ بھول گئے ہیں۔ کووڈ کے دنوں میں ہی سعودی عرب، چین، امارات سے چار فیصد سے سات فیصد پر لیے گئے ڈالروں میں کمرشل قرض (جس کا سود اج بھی ڈالروں میں دے رہے ہیں) میں سے بزنس مینوں دوستوں کو زیرو انٹریسٹ پر تین ارب ڈالرز دیے جو زیادہ تر کاروباریوں نے امپورٹ کے نام پر اوورانوائسنگ کر کے باہر بھجوائے، ایک نے تو ان پیسوں سے جیٹ جہاز خرید کر منگوا لیا، بعض نے وہ بیکار مشینری منگوائی جو ڈبوں میں پیک رکھی ہے کیونکہ مقصد امپورٹ کے نام ڈالرز باہر بھجوانے تھے، امپورٹ جو 2018 میں 55/60 ارب ڈالرز تھی اسے 80 ارب ڈالر تک لے گے اور بیس ارب ڈالرز کے قریب کا بڑا ٹریڈ گیپ/کرنٹ اکاونٹ کا سامنا ہوا اور قرضے لینے پڑ گئے جس سے آج تک ہم ریکور نہیں کرسکے، امریکہ، چین اور سعودی عرب سے لمبی لڑائی لڑی جو پاکستان کے تاریخی طور پر اہم دوست ملک ہیں، یورپین یونین کے تیس ملکوں سے لڑائی مول لی جنہوں نے ایک ارب ڈالرز ٹیکس میں ہمارے ایکسپورٹرز کو چھوٹ دے رکھی ہے، جس ملک برطانیہ کے آپ شہری ہیں ان سے لڑائی لی اور پہلا پاکستانی وزیراعظم تھا جس نے برطانیہ کا ساڑھے تین سال دورہ نہیں کیا حالانکہ دو دفعہ کنفرم ہوا ( کسی روحانی پیر نے منع کر دیا تھا) ۔ جس بندے نے وزیراعظم بن کر دورہ برطانیہ نہیں کیا لیکن اب اس نے وہیں چانسلر لگنا ہے، بزدار جیسے بندے کو پنجاب جیسا بڑا صوبہ دیا جہاں گوگی گگا، گجر، مانیکا اور بزدار گینگز نے ات مچائی، بزدار کے دفتر کے ایک اعلی افسر نے اپنی دو بیٹیوں کی شادیوں پر بقول پرویز الہی دو ارب سلامی اکھٹی کی اور اسے پروموشن دے کر خان نے اپنا فیڈرل سیکرٹری لگایا، پنجاب میں چھ چھ سات سات چیف سیکریٹرز/آئی جی بدلے، چار سو دفعہ ڈپٹی کمشنرز/کمشنرز کے ٹرانسفرز ہوئے، کووڈ میں ایران سے آئے زائرین کا سرحد پر کورٹین نہیں ہونے دیا جس سے کووڈ زیادہ تیزی سے پھیلا، طالبان جیسے قدیم ذہینت کے لوگوں کو پاکستانیوں کا ہیرو اور رول ماڈل بنا کر پیش کیا۔ 35000 ہزار لڑاکے طالبان افغانستان سے واپس لا کر سوات بسایا، طالبان کی طرف سے لڑکیوں پر تعلیم کی پابندی کا دفاع کیا کہ یہ ان کا کلچر ہے۔ اسامہ کو شہید بنا کر پیش کیا جس سے پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں رائے عامہ ہوئی۔ پوری دنیا سے پھڈے لڑائی اور پاکستان کو اکیلا کر کے فخریہ پوچھا کوئی ملک بچ تو نہیں گیا۔ وزیراعظم بن کر اپنے کاروباری دوستوں کو 250 ارب GIDC کا اکھٹا کیا گیا پیسہ معاف کیا ۔۔ فہرست طویل ہے جگہ کم ہے۔ ملک ریاض کے فنڈز ، ہیرے جواہرات کی انگوٹھیاں یا توشہ خانے کی لوٹ مار اور گھڑیوں کی دوبئی میں خریدوفروخت کا ذکر اچھا نہیں لگتا لہذا رہنے دیں لیکن میں پھر بھی اس حق میں ہوں عمران خان اکسفورڈ یونیسورسٹی کا چانسلر بنے تاکہ گوروں کو بھی پتہ چلے انہوں نے اکسفورڈ یونیورسٹی میں سے بڑی محنت بعد جو پروڈکٹ تیار کر کے پاکستان بھیجی تھی کچھ اس کا ذائقہ وہ بھی زرا چکھیں





Comments...