Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Kosovo PM slammed with eggs by furious opposition Kosovo PM slammed with eggs by furious opposition First video of Iran’s Supreme Leader Ayatollah Mojtaba Khamenei has been released by Iran's Tasnim news First video of Iran’s Supreme Leader Ayatollah Mojtaba Khamenei has been released by Iran's Tasnim news What is future of PTI & Imran Khan? Suhail Warraich's interview to Mansoor Ali Khan What is future of PTI & Imran Khan? Suhail Warraich's interview to Mansoor Ali Khan Chinese astronauts grow rice in space on Tiangong station Chinese astronauts grow rice in space on Tiangong station Amazing scenes as Riyadh’s 'Kingdom Tower' illuminated with Pakistan, Saudi Arabia & Türkiye flags Amazing scenes as Riyadh’s 'Kingdom Tower' illuminated with Pakistan, Saudi Arabia & Türkiye flags CM Sohail Afridi’s emergency press conference on Imran Khan's health issue CM Sohail Afridi’s emergency press conference on Imran Khan's health issue

After current legislation, Gen Asim Munir may get a chance to remain Army Chief till 2032 - Kamran Khan


کامران خان نے حالیہ قانون سازی پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا

پاکستان کی پارلیمنٹ نے اپنی جمہوری قوت استعمال کرتے ہوئے پالیسی اور اہم فیصلے سازی میں تسلسل، مستقل مزاجی، اور پیش بینی کی خاطر ایسی قانون سازی کردی ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمتمیں بنا کسی رکاوٹ لامتناہی اضافہ کیا جاسکتا ہے
از: کامران خان

حالیہ قانون سازی میں ترامیم کے ذریعے پاکستان کے مستقبل کے عسکری قیادت کے لیے تقریباً آئندہ دہائی کے لیے راہ ہموار ہوگئی ہے، جس سے جنرل عاصم منیر کو نومبر 2032 تک چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) رہنے کا موقع مل سکتا ہے۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے آرمی ایکٹ میں ایک اہم ترمیم منظور کی، جس کے تحت وزیراعظم کو آرمی چیف کی مدت میں توسیع یا دوبارہ تقرری کا اختیار مل گیا، جس پر عمر یا سروس کی مدت کی پابندی نہیں ہوگی۔

پاکستان آرمی ایکٹ کے شق 8C میں کی گئی اس ترمیم نے ان تمام قانونی، انتظامی، اور تکنیکی رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے جو پہلے سی او اے ایس کی مدت محدود کرتی تھیں۔ جنرل منیر، جن کی موجودہ مدت نومبر 2027 میں ختم ہو رہی ہے، کو اب مزید پانچ سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکتا ہے، اگر وزیراعظم شہباز شریف چاہیں تو۔ اس تبدیلی کا مقصد عسکری قیادت اور پالیسی سازی میں تسلسل اور پیش بینی کو فروغ دینا ہے، جو کہ پاکستان کے لیے ایک نازک وقت میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ اصلاحات پاکستان کے اعلیٰ عسکری عہدے کے لیے اضافی لچک کی جانب اشارہ کرتی ہیں، جس سے سی او اے ایس کو کسی بھی دوبارہ تقرری یا توسیع کے دوران جنرل کے عہدے اور ذمہ داریوں کو برقرار رکھنے کی اجازت ملتی ہے۔ اس اقدام کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ایک طویل عرصے کی مدت قومی دفاعی پالیسی کو مستحکم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، خصوصاً ایک ایسے خطے میں جو بے یقینی کا شکار ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عسکری قیادت میں طاقت کا ارتکاز بھی پیدا کر سکتا ہے۔

جنرل منیر کی موجودہ مدت کے دوران، نیا قانون پاکستان کی حکومت کو ملک کے عسکری مستقبل کا تعین کرنے میں اہم اختیارات فراہم کرتا ہے، جس کے ملکی اور علاقائی استحکام پر طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





Comments...