Iran orders millions of Afghan migrants to leave by July 6 or face arrest
ایران کا افغان مہاجرین کو ملک چھوڑنے کا حکم، ڈیڈ لائن 6 جولائی مقرر
تہران: ایرانی حکومت نے ملک میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین کو 6 جولائی تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، بصورتِ دیگر انہیں گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایرانی وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیا گیا ہے، جسے "غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی" قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں بڑھتے ہوئے غیر قانونی افغان مہاجرین کی موجودگی، معاشی دباؤ، اور داخلی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ایران میں موجود بیشتر افغان مہاجرین پناہ گزین کی حیثیت سے نہیں بلکہ روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ 6 جولائی کی ڈیڈ لائن کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے جائیں گے، اور جو افغان شہری رضاکارانہ طور پر واپس نہیں جائیں گے، انہیں گرفتار کر کے سرحد پار بھیج دیا جائے گا۔
اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ ایران میں موجود بہت سے افغان مہاجرین جنگ، غربت اور طالبان حکومت سے بچ کر پناہ کی تلاش میں آئے تھے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران خود معاشی بحران کا شکار ہے، اور ملکی حکومت بیرونی مہاجرین پر بوجھ کم کرنا چاہتی ہے۔
Youtube
Iran cannot be bought with money or bribes - Donald Trump confess
Japan Earthquake: Dramatic before-and-after images reveal extensive Aeon Mall destruction
Hamid Mir's views on Bilawal Bhutto & Maryam Nawaz's conflict
YouTuber Rajab Butt, friends booked for allegedly attacking women
Rana Sanaullah hits back at Bilawal Bhutto over Azad Kashmir situation
Nabeel Gabol's video goes viral while riding bike without helmet and Police officer salutes him













