Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Breaking News: US attacks missile sites in southern Iran Breaking News: US attacks missile sites in southern Iran Iran ‘agreement has been largely negotiated’ - Donald Trump Iran ‘agreement has been largely negotiated’ - Donald Trump Bangladesh restores 'except Israel' condition on passports Bangladesh restores 'except Israel' condition on passports Breaking News: 14 martyred in Quetta shuttle train blast Breaking News: 14 martyred in Quetta shuttle train blast PTI's Ali Muhammad Khan & Sher Afzal Marwat's tweets addressing each other PTI's Ali Muhammad Khan & Sher Afzal Marwat's tweets addressing each other Are foreign nationals applying for green cards now required to leave the US? Are foreign nationals applying for green cards now required to leave the US?

Rauf Klasra's hard hitting tweet replying to Imran Riaz Khan after he tried to defend Imran Khan


آپ کا شو عمران خان نے نہیں جرنیلوں نے بند کرایا تھا، عمران ریاض کی ٹویٹ پر سنیے رؤف کلاسرا کا جوابی ٹویٹ۔ آپ عمران خان کے بارے میں بڑے حساس ہیں، میں کوئی بھی ٹویٹ کروں آپ جھٹ خان کی صفائی دینے آجاتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے دونوں ٹویٹس

عمران ریاض خان نے رؤف کلاسرا کو اپنی ٹویٹ میں کوٹ کرتے ہوئے لکھا

کلاسرا صاحب معذرت کے ساتھ آپکا شو بند ہونے پر میری آپ سے بات ہوئی تھی اس وقت آپ اسکے لیے فوجی جرنیلوں کو زمہ دار سمجھتے تھے۔ مگر اب آپ صرف عمران خان کو کیسے زمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔
ظلم کیا ہوتا ہے کبھی ملیں گے تو ہم بتائیں گے آپکو۔۔۔

جواب میں رؤف کلاسرا نے عمران ریاض خان کو لکھا

عمران ریاض صاحب۔ چلیں اس بہانے آپ سے یہاں بات ہوجاتی ہے۔آپ اپنے بارے اتنے حساس نہیں ہیں جتنے عمران خان کے بارے میں ہیں کہ چھوٹی سی بات بھی ہم کہہ دیں تو آپ ضرور ان کی صفائی دیتے ہیں اور مجھے آپ کی یہی بات پسند ہے۔ آپ خان صاحب پر پورا حق ملکیت رکھتے ہیں۔
Complete Sense of Possession
جی آپ کا فون آیا تھا کہ تیار ہو جائیں آپ کا شو بند ہورہا ہے۔ ان دنوں آپ کی رسائی فوجی جرنیلوں تک تھی۔
میں نے کہا جی بسم آللہ۔

اب یہ تو آپ ہی بتا سکتے ہیں کہ آپ کو کس فوجی جنرل نے بتایا تھا کہ رئوف کا شو بند ہورہا ہے؟ آپ نے ہی نام لیے بغیر فوجیوں کا بتایا تھا کہ وہ بند کرا رہے ہیں اور آپ کی مہربانی کہ آپ نے کہا ہم اس پر مزاحمت کریں گے۔ اب آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں نے آپ کو فوجیوں کا کہا۔۔۔ مجھے تو علم ہی نہ تھا کہ میرا شو بند ہورہا ہے تو کسی جنرل کا نام کیوں لیتا؟ آپ نے مجھےوہ خبر بریک کی تھی۔

میں تو وہ بتا سکتا ہوں جو مجھے چینل انتظامیہ نے کہا تھا کہ آپ وزیراعظم عمران خان سے مل لیں اورڈی جی ائی ایس پی آر سے مل لیں اور اپنے معاملات حل کریں۔
میں نے جواب میں کہا تھا میں دونوں سے نہیں ملوں گا اور نہیں ملا تھا۔
میں نے کہا تھا میرا کنٹریکٹ آپ ٹی وی کے ساتھ تھا کسی فوجی جنرل یا وزیراعظم سے نہیں تھا۔

انتطامیہ کا جواب تھا کہ پھر آپ کا شو بند ہوگا، سات ڈیجٹس تنخواہ/نوکری ختم۔
ہمیں مسکرا کر ہاتھ ملا کر باہر نکل آیا تھا اور کبھی مڑ کر نہ گیا نہ کبھی ان صاحب سے گلہ کیا ۔

آپ کے فون کے اگلے روز ارشد شریف نے E7 کیفے پر کہا تمہیں منع کیا تھا آپ ٹی وی نہ جائو جب تمہیں سما ٹی اور ہم ٹی وی کی آفر ہے۔
تم آپ ٹی وی چینل میں مروت /دوستی نبھانے گئے تھے اب بھگتو۔
آج صبح تمہارے چینل کے سربراہ کی عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور ایجنڈے پر تم تھے۔ تم نے عمران خان یا فوجی جنرل سے ملنا نہیں لہذا تم کل سے بیروزگار لہذا اب کوئی نئی جاب ڈھونڈتے ہیں۔

چینلز کا سربراہ وزیراعظم سے مل کر آیا اور مجھے کہا آپ عمران خان سے مل کر اپنے معاملات ٹھیک کریں۔ ان سے نہں ملنا تو ڈی جی آئی ایس پی آر سے مل لو۔
میں دونوں سے نہیں ملا۔

مجھے بعد میں جنرل فیض حمید کا ایک قریبی بندہ ملنے آیا تھا کہ آپ کو نکلوانے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں۔ وزیراعظم نے بار بار اصرار کیا۔ دو تین دفعہ جنرل باجوہ کو بھی کہا گیا کہ ان کا شو بند کرائیں۔

میں نے انہیں بھی یہی کہا جس نے بھی کہا ہو کہ اسے نکال دیں مجھے کوئی گلہ نہیں کہ آپ ٹی وی جانے کا فیصلہ میرا تھا جو غلط فیصلہ تھا۔

میرے پاس سما ٹی اور ہم ٹی وی کی آفرز تھیں۔ ارشد سمیت سب دوستوں نے کہا آپ ٹی وی مت جائو۔ سما ٹی وی جائو ( نوید صدیقی صاحب کو آج بھی یاد ہوگا۔ظفر صدیقی صاحب بھی دوبئی سے آئے اور دس بجے رات شو کی ڈیل پکی تھی)۔ درید قریشی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ان کی بھی دس بجے شو کے پیشکش موجود تھی۔ ہمارے دوست محمد مالک نے وہ ڈیل کرائی تھی۔

میں آپ ٹی وی اس لیے گیا کہ ایک سال پہلے آفتاب اقبال کے والد ظفر اقبال صاحب نے فون کر کے کہا تھا آفتاب آپ کا بھائی ہے وہ چینلز لا رہا آپ نے اس کے چینل کو جوائن کرنا ہے۔ انہوں نے میرے مرحوم محسن اور دوست ڈاکٹر ظفر الطاف کا حوالہ دیا تھا جس پر میں اپنے دیہاتی پن اور سادگی کی وجہ سے انکار نہ کرسکا۔
لہذا ارشد اور دیگر دوستوں کی مخالفت اور سما ٹی وی/ہم ٹی وی کی پیشکش چھوڑ کر آپ ٹی وی اپنا ایک پرانا وعدہ/ڈاکٹر ظفر الطاف کا حوالہ نبھانے گیا تھا۔

میں کسی کو الزام نہیں دیتا۔ میرا فیصلہ تھا آپ ٹی وی جوائن کیا۔
یہ بھی میرا فیصلہ تھا جب چینل انتظامیہ نے کہا جا کر عمران خان اور ائی ایس پی آر کے جنرل سے مل کر انہیں مطمئن کرو ورنہ فارغ، تو میں نے ایک کے بعد دوسری غلطی نہیں کی اور نہ عمران خان سے ملنے گیا نہ جنرل سے ملا۔ گھر چلا گیا۔

دونوں فیصلے غلط یا ٹھیک وہ میرے تھے اور میں ان کی ذمہ داری خود لیتا ہوں۔

بعد میں مراد سعید، شہباز گل، ڈاکٹر بابر اعوان نے مجھے کہا کہ ہم خان سے بات کریں گے اور شاید انہوں نے کی بھی تھی۔
میں نے ان دوستوں کا بھی شکریہ ادا کر کے انکار کر دیا تھا کہ صحافت کسی وزیراعظم یا فوجی جنرل سے بات چیت/مزاکرات یا انہیں مطمئن کر کے نہیں کی جاسکتی








Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...