Fayaz Chohan's tweet about Mufti Samar Abbas on his apology after being accused of blasphemy
مفتی ثمر عباس عطاری نے کچھ دن قبل ایک تقریر کی جس پر ان پر توہینِ رسالت کا الزام لگ گیا، جواب میں انہوں نے معافی مانگ لی اور بڑی آسانی سے چھوٹ گئے۔ اس پر فیاض چوہان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ عام آدمی سے ایسی غلطی ہو تو اس پر 295 سی کا مقدمہ قائم ہوتا ہے اور وہ جیل جاتا ہے، مگر ایک مولوی صرف معافی مانگ کر چھوٹ گیا؟ ملاحظہ کیجئے فیاض الحسن چوہان کی ٹویٹ
مفتی ثمر قادری نے نبی پاکٌ سے ایک بے بنیاد حدیث ایک انتہائی ذومعنی اور غیر اخلاقی مفہوم کے ساتھ منسوب کی۔۔۔باوجود اِس کے کہ اُس نے فوراً معافی مانگ لی۔۔۔لیکن میری ناقص رائے میں اُس پر ملک کے قانون 295/c لگنی چاہیے اور عدالت میں اُس کے خلاف باقاعدہ کیس چلنا چاہیے۔۔۔۔آخر کیوں۔۔۔:
وہ اِس لیے کہ یہ بد عقل اور بد سمجھ آدمی دین کی اعلیٰ تعلیم اور مفتی ہونے کا دعویدار ہے۔اِس نے پانچ منٹ تک ایک بے بنیاد ذومعنی فحش گفتگو کی اور نعوذباللہ معاذاللہ نبی پاکٌ کی ذات اقدس سے منسوب بھی کی۔۔۔۔یہ قطعاً بھی سِلپ آف ٹنگ،زبان کا پھسلنا اور غیر ارادتاً نہیں ہو سکتا۔۔!!!!
عدالت اِس کا معافی نامہ قبول کرے یا نہ کرے یہ وہ جانے اور عدالت جانے۔۔۔لیکن قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔۔۔۔چاہے وہ مولوی،ذاکر،سیکولر، عام اور خاص ہو۔۔۔!!!
مفتی ثمر عباس کی ایک بات قابلِ تحسین ہے کہ اُس نے فوراً اپنی غلطی،گستاخی اور گناہ پر معافی مانگی اور رجوع کیا۔۔۔یہ معاملہ اللہ اور اُس کے درمیان ہے اور اللہ معاف کرنے والا ہے۔۔۔لیکن ملکی قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہیے۔۔۔!!!!
مفتی ثمر قادری نے نبی پاکٌ سے ایک بے بنیاد حدیث ایک انتہائی ذومعنی اور غیر اخلاقی مفہوم کے ساتھ منسوب کی۔۔۔باوجود اِس کے کہ اُس نے فوراً معافی مانگ لی۔۔۔لیکن میری ناقص رائے میں اُس پر ملک کے قانون 295/c لگنی چاہیے اور عدالت میں اُس کے خلاف باقاعدہ کیس چلنا چاہیے۔۔۔۔آخر کیوں۔۔۔:…
— Fayaz ul Hassan Chohan (@Fayazchohanpk) June 3, 2026
Donald Trump's big statement on Iran deal in meeting with Amir Qatar
Netanyahu's comments on US-Iran deal
Trump Meloni's viral interaction steals the show at G7 Summit
DPO Jhang exclusive talk about Ishal Fatima case
Donald Trump meets Modi at G7 Summit, No hug no smile
Rs 125 Billon Scam: Faisal Vawda & Haroon Akhtar Clash In Meeting - Details by Rauf Klasra










