Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
The hidden secret behind Sarhad University incident - Details by Javed Chaudhry The hidden secret behind Sarhad University incident - Details by Javed Chaudhry Khan Sahib Aik Dafa Ajaen to Band Kamry Main Beth Kar Hum Guftugu Karen Gen - Asad Umar Khan Sahib Aik Dafa Ajaen to Band Kamry Main Beth Kar Hum Guftugu Karen Gen - Asad Umar Lion spotted in Islamabad's village Saidpur Lion spotted in Islamabad's village Saidpur Colonel’s firing in Sarhad University, New videos emerged - Details by Mansoor Ali Khan Colonel’s firing in Sarhad University, New videos emerged - Details by Mansoor Ali Khan Trump administration plans largest mass visa cancellation in history Trump administration plans largest mass visa cancellation in history Kamran Khan's tweet on PIMS hospital incident in Islamabad Kamran Khan's tweet on PIMS hospital incident in Islamabad

Kamran Khan's tweet on PIMS hospital incident in Islamabad


اسلام آباد پمز ہسپتال میں آگ لگنے کے باعث بچوں کی موت پر کامران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا

پاکستان کا نظام حکومت زمیں بوس ہے آج اس کا ایک اور منہ بولتا ثبوت دارلحکومت اسلام آباد سے براہ راست پورے پاکستان نے دیکھ لیا ۰
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں 14 نومولود بچے چند منٹوں میں جل کر مرگئے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی؟ اصل سوال یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت، وزیراعظم ہاؤس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر، ملک کا سب سے اہم سرکاری اسپتال سالہا سال سے مسلسل خبردار کیے جانے کے باوجود موت کا جال کیوں بنا رہا ؟
یہ محض ایک خوفناک حادثہ نہیں۔ اب تک سامنے آنے والی معلومات اسے برسوں کی انتظامی غفلت، ناقص نگرانی اور حکومتی failure کا ثبوت ہے ۔آج صبح پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں آگ بھڑکی۔ سرکاری طور پر کم از کم 14 نومولود بچوں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے، اگرچہ بعض سرکاری ذرائع تعداد 15 بتا رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں ایئرکنڈیشنر کمپریسر یا الیکٹریکل فالٹ کو ممکنہ سبب بتایا گیا ہے، جبکہ آکسیجن سے بھرپور ماحول نے آگ کی شدت بڑھائی۔ حتمی وجہ تحقیقات نے طے کرنی ہے مگر آگ کیسے لگی، شاید اس سانحے کا سب سے بڑا سوال بھی نہیں۔
اصل دھماکہ خیز انکشاف یہ ہے کہ پمز انتظامیہ کو 2018 سے فائر سیفٹی کی سنگین خامیوں پر مسلسل نوٹسز جاری ہوتے رہے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام پمز کو بار بار بتاتے رہے کہ اسپتال میں فائر پریوینشن، فائر پروٹیکشن اور لائف سیفٹی سسٹمز نامکمل ہیں۔ فائر سیفٹی پلان منظور کرانے، ضروری این او سی لینے، تربیت یافتہ عملہ 24 گھنٹے تعینات کرنے، عمارت خالی کرانے کی تربیت اور ایمرجنسی drills کرانے کی ہدایات بھی دی جاتی رہیں۔ حتیٰ کہ 2024 کے نوٹس میں بھی خامیاں دور نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی یعنی خطرہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ ریاست کو خطرے کا علم تھا۔
اور پھر آج آگ لگ گئی۔
ابتدائی CDA/فائر بریگیڈ رپورٹ نے صورتحال مزید خوفناک بنادی۔ رپورٹ کے مطابق اسپتال کے فائر اور لائف سیفٹی انتظامات مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں تھے اور بعض ایمرجنسی راستے باہر سے بند اور obstructed تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سیکیورٹی عملے نے ابتدائی ریسکیو کارروائی میں مشکلات پیدا کیں
ریسکیو ذرائع نے اس سے بھی سنگین الزامات لگائے: فائر پوائنٹ پر پانی نہیں، فائر ہوز کے couplings غائب اور emergency evacuation routes بند تھے۔ بعض والدین اور ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت nursery میں متعلقہ عملہ موجود نہیں تھا۔ البتہ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹرز اور نرسیں ڈیوٹی پر موجود تھیں۔ یہاں وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت ایک بنیادی سوال سے نہیں بچ سکتی۔
PIMS کسی دور دراز ضلع کا BHU نہیں۔ یہقی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال ہے—وفاقی حکومت کی براہ راست نگرانی کے دائرے میں۔جب 2018 سے خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہوں، 2024 تک نوٹس جاری ہورہے ہوں، اور 2026 میں بھی وہی بنیادی فائر سیفٹی نظام مکمل نہ ہو تو ذمہ داری محض کسی electrician، ward boy یا junior administrator پر ڈال کر ختم نہیں کی جاسکتی۔روایتاً وزیراعظم شہباز شریف نے سانح کے بعد چار ماہ کے لئیے ہیلتھ سکریٹری معطل کردیا تحقیقات کا حکم دے دیا، اور 24 گھنٹوں میں رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ مگر اب سوال یہ ہونا چاہیے:2018 سے آنے والے نوٹسز کس کس افسر کی میز پر گئے؟ کس نے عملدرآمد نہیں کیا؟ کس وزارت نے follow-up نہیں کیا؟ فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر نرسری کیوں چلتی رہی؟ اور سب سے اہم—آٹھ سال میں کسی وفاقی حکومت نے PIMS کو محفوظ کیوں نہیں بنایا؟وزیراعظم یقیناً خود فائر ہوز چیک نہیں کرتے۔ لیکن ملک کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے وفاقی حکومت کی سیاسی اور انتظامی ذمہ داری بہرحال بنتی ہے کہ اس کے سب سے اہم اسپتال میں زندگی بچانے والے بنیادی حفاظتی نظام فعال ہوں۔اب صرف ایک اور انکوائری، ایک اور کمیٹی اور چند افسروں کی معطلی کافی نہیں ہوگی۔ان 14 معصوم بچوں کے والدین کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے بچے آگ سے مرے—یا ایک ایسے سرکاری نظام کی غفلت سے جسے آٹھ سال سے معلوم تھا کہ کسی دن یہ آگ لگ سکتی ہے۔





Comments...