Facebook
سڈنی: آسٹریلیا میں اسلام کو ایک ملک اور یہودیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاپیروکار سمجھنے والی ایک خاتون امیدوارنے انتخابات میں حصہ لینے کا اپنا فیصلے تبدیل کر لیا ہے۔
27سالہ اسٹیفنی بینسٹر نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا کہ میں اسلام کی ایک ملک کے طور پر مخالفت نہیں کرتی مگر میرے خیال میں اسلام کے قوانین کو یہاں آسٹریلیا میں متعارف نہیں کروانا چاہیے،اسٹیفنی بینسٹرکا سیاسی سفر صرف 48 گھنٹوں تک محیط رہا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ان کے انٹرویو کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا جس کے بعد انہیں انتخابات میں حصہ لینے کا اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔
اسٹیفنی بینسٹر مسسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید اور حلال وحرام کے فرق سے بھی نا آشنا تھیں اور ان کے خیال میں یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں۔
اسٹیفنی کا کہنا تھا کہ جس طرح نیوز چینل نے میرا انٹر ویو پیش کیا اس کے تحت میں کافی بیوقوف معلوم ہوتی ہوں جس کے لئے میں اپنی سیاسی جماعت ، دوستوں اور گھر والوں سے ممکنہ شرمندگی کے لیے معافی مانگتی ہوں۔
Iran cannot be bought with money or bribes - Donald Trump confess
Japan Earthquake: Dramatic before-and-after images reveal extensive Aeon Mall destruction
Hamid Mir's views on Bilawal Bhutto & Maryam Nawaz's conflict
YouTuber Rajab Butt, friends booked for allegedly attacking women
Rana Sanaullah hits back at Bilawal Bhutto over Azad Kashmir situation
Nabeel Gabol's video goes viral while riding bike without helmet and Police officer salutes him













