
پشاور: ڈان نیوز کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے پیر کو نوشہرہ اور لکی مروت میں حالیہ ضمنی انتخابات میں خواتین کی شرکت روکنے پر ان حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے ضمنی الیکشنز میں خواتین کا ان کا حقِ رائے دہی استعمال کرنے سے روکا گیا تھا۔
پشاور ہائی کورٹ ( پی ایچ سی) کے چیف جسٹس کی سربراہی میں بننے والی دو رکنی بنچ نے این اے 5 (نوشہرہ) اور NA-27 ) لکی مروت) حلقوں میں خواتین کو حقِ رائے دہی سے روکنے پر ازخود نوٹس کی سماعت کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔
اپنی سماعت کے دوران چیف جسٹس دوست محمد نے کہا کہ خواتین کو ووٹنگ سے روکنا ملک کی توہین ہے جہاں قومی اسمبلی کی سپیکر خاتون رہیں اور ایک خاتون دو مرتبہ ملک کے وزیرِ اعظم کے عہدے پر فائز رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مردوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور زکوٰۃ و عشر کی فہرستوں میں عورتوں کے نام شامل ہونے پر اعتراض نہیں لیکن وہ ووٹروں کی فہرست کی عورتوں کے نام شامل کرنے پر معترض ہیں۔
انہوں نے آرٹیکل 218 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت یہ الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے کہ وہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے اسی لئے لکی مروت اور نوشہرہ کے ان تمام متاثرہ پولنگ سٹیشنز میں دوبارہ پولنگ کرائی جائے جہاں خواتین کو ووٹ دینے سے روکا گیا تھا۔
Source
Iranian origin and Swedish female minister attends meeting with 3 months child
DPO Sargodha tells details of minor girl murder case in grocery store
Iran's retaliation strikes on US installations in Bahrain and Kuwait
Japanese ambassador in Bahrain prepares 'Niaz' for Ashura
Eye-opening Revelations in confessional statement of terrorist injured in Rangers camp attack in Karachi
US attack will be met with a more severe and comprehensive response - IRGC













