Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Iran cannot be bought with money or bribes - Donald Trump confess Iran cannot be bought with money or bribes - Donald Trump confess Japan Earthquake: Dramatic before-and-after images reveal extensive Aeon Mall destruction Japan Earthquake: Dramatic before-and-after images reveal extensive Aeon Mall destruction Nabeel Gabol's video goes viral while riding bike without helmet and Police officer salutes him Nabeel Gabol's video goes viral while riding bike without helmet and Police officer salutes him Hamid Mir's views on Bilawal Bhutto & Maryam Nawaz's conflict Hamid Mir's views on Bilawal Bhutto & Maryam Nawaz's conflict CCTV footage of suspects in PTI leader Abdullah Tahir murder case CCTV footage of suspects in PTI leader Abdullah Tahir murder case India: Rs 28 crore and 15 kg of gold recovered from ex bus driver's house, 5 note counting machines failed to count India: Rs 28 crore and 15 kg of gold recovered from ex bus driver's house, 5 note counting machines failed to count


آج پانچ جون کے تاریخی دن ایک جمہوری حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد اقتدار دوسری جمہوری حکومت کے حوالے کیا گیا اور قوم پرُ امید تھی کہ اب ملک میں فوج کی بالا دستی قائم نہیں رہے
گی۔ لیکن کم ازکم شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر صورتحال اس کے برعکس ہی رہی ۔

جیسے ہی اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ وزیرِ اعظم نواز شریف بدھ کو تقریبِ حلف برداری کیلئے ایوانِ صدر
کی جانب روانہ ہوئے ، انہیں اسلام آباد کی سڑکوں پر ایک اہم حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں حقیقی طاقت کا مالک کون ہے؟ وزیرِ اعظم یا آرمی چیف؟ نظری
اعتبار سے آرمی چیف ایک بائیس گریڈ کے افسر کو جوابدہ ہے۔ لیکن عملی طور پر وہ ملک میں کسی
منتخب یا غیر منتخب شخص سے کہیں زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔بدھ کو میاں نوازشریف کے وزیرِ اعظم بننے کے فوراً بعد اس حقیقت کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔

قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد وزیرِ اعظم پنجاب ہاؤس پہنچے۔وزیرِ اعظم کو صدر آصف علی زرداری سے حلف لینے کیلئے چار بجے تک ایوانِ صدر تک پہنچنا تھا۔تقریبِ حلف برداری میں ، تینوں مسلح افواج کےسربراہان، سیاسی جماعتوں کے رہنما، سفارت کار اور سینیئر سول اور ملٹری افسران نے شرکت کی۔پاکستان مسلم لیگ نون ( پی ایم ایل این) کے ذرائع اورعینی گواہان نے بتایا کہ پنجاب ہاؤس سے سب سے پہلے خاتونِ اول کلثوم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم صفدر کا قافلہ گزرا۔ ان کے پیچھے حمزہ شہباز اور حسن نواز کی گاڑیاں تھیں۔وزیرِ اعظم نواز شریف کا موٹر کیڈ اپنے اہلِ خانہ کی گاڑیوں سے قریب موجود تھا۔ جیسے ہی ان کا قافلہ مرگلہ روڈ سے متصل پنجاب ہاؤس کے بیرونی بیریئر کے پاس پہنچا۔ ایک فوجی کمانڈو نے پوری قوت سے سیٹی بجاتے ہوئے ان کی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا۔نتیجتاً وزیرِ اعظم کا کاررواں رک گیا اور یہ دورانیہ دو سے تین منٹ کا تھا۔کمانڈو وہیں موجود رہا اور اس امر کی تصدیق کی کہ آرمی چیف کے کاررواں کو گزرنے کیلئے کوئی رکاوٹ موجود نہیں ۔ اس نے چیف آف آرمی سٹاف کے گزرجانے کے بعد ہی پنجاب ہاؤس سے گاڑیوں
کو گزرنے کی اجازت دی۔کیا یہ محض اتفاق تھا ، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ پی ایم ایل این کا کوئی رہنما اس پر گفتگو کیلئے تیار نہیں، لیکن شاید نو منتخب وزیرِ اعظم نے اپنے



Comments...