Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Allah Muaf Kary Hamary Ulama Ko Kya Hogaya Hai? Hina Parvez Butt's tweet on Tariq Jameel's video Allah Muaf Kary Hamary Ulama Ko Kya Hogaya Hai? Hina Parvez Butt's tweet on Tariq Jameel's video PMLN's Azma Bukhari makes fun of Bilawal Bhutto's threatening message to PMLN PMLN's Azma Bukhari makes fun of Bilawal Bhutto's threatening message to PMLN Naye Sooby Bananay Main Conceptionally Problem Nhn, Mohsin Naqvi Se Kehlwanay Main Masla Hai - Fawad Chaudhry Naye Sooby Bananay Main Conceptionally Problem Nhn, Mohsin Naqvi Se Kehlwanay Main Masla Hai - Fawad Chaudhry Donald Trump rescues toddler from running off the stage, Jokes 'Didn't Want Him To Be Like Biden' Donald Trump rescues toddler from running off the stage, Jokes 'Didn't Want Him To Be Like Biden' You can not recall or mention a single achievement of Imran Khan as PM for three years? Klasra to Asad Umar on X(twitter) You can not recall or mention a single achievement of Imran Khan as PM for three years? Klasra to Asad Umar on X(twitter) Who were the men in white met Mir Raza Ali? New CCTV footage appears Who were the men in white met Mir Raza Ali? New CCTV footage appears


آج پانچ جون کے تاریخی دن ایک جمہوری حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد اقتدار دوسری جمہوری حکومت کے حوالے کیا گیا اور قوم پرُ امید تھی کہ اب ملک میں فوج کی بالا دستی قائم نہیں رہے
گی۔ لیکن کم ازکم شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر صورتحال اس کے برعکس ہی رہی ۔

جیسے ہی اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ وزیرِ اعظم نواز شریف بدھ کو تقریبِ حلف برداری کیلئے ایوانِ صدر
کی جانب روانہ ہوئے ، انہیں اسلام آباد کی سڑکوں پر ایک اہم حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں حقیقی طاقت کا مالک کون ہے؟ وزیرِ اعظم یا آرمی چیف؟ نظری
اعتبار سے آرمی چیف ایک بائیس گریڈ کے افسر کو جوابدہ ہے۔ لیکن عملی طور پر وہ ملک میں کسی
منتخب یا غیر منتخب شخص سے کہیں زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔بدھ کو میاں نوازشریف کے وزیرِ اعظم بننے کے فوراً بعد اس حقیقت کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔

قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد وزیرِ اعظم پنجاب ہاؤس پہنچے۔وزیرِ اعظم کو صدر آصف علی زرداری سے حلف لینے کیلئے چار بجے تک ایوانِ صدر تک پہنچنا تھا۔تقریبِ حلف برداری میں ، تینوں مسلح افواج کےسربراہان، سیاسی جماعتوں کے رہنما، سفارت کار اور سینیئر سول اور ملٹری افسران نے شرکت کی۔پاکستان مسلم لیگ نون ( پی ایم ایل این) کے ذرائع اورعینی گواہان نے بتایا کہ پنجاب ہاؤس سے سب سے پہلے خاتونِ اول کلثوم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم صفدر کا قافلہ گزرا۔ ان کے پیچھے حمزہ شہباز اور حسن نواز کی گاڑیاں تھیں۔وزیرِ اعظم نواز شریف کا موٹر کیڈ اپنے اہلِ خانہ کی گاڑیوں سے قریب موجود تھا۔ جیسے ہی ان کا قافلہ مرگلہ روڈ سے متصل پنجاب ہاؤس کے بیرونی بیریئر کے پاس پہنچا۔ ایک فوجی کمانڈو نے پوری قوت سے سیٹی بجاتے ہوئے ان کی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا۔نتیجتاً وزیرِ اعظم کا کاررواں رک گیا اور یہ دورانیہ دو سے تین منٹ کا تھا۔کمانڈو وہیں موجود رہا اور اس امر کی تصدیق کی کہ آرمی چیف کے کاررواں کو گزرنے کیلئے کوئی رکاوٹ موجود نہیں ۔ اس نے چیف آف آرمی سٹاف کے گزرجانے کے بعد ہی پنجاب ہاؤس سے گاڑیوں
کو گزرنے کی اجازت دی۔کیا یہ محض اتفاق تھا ، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ پی ایم ایل این کا کوئی رہنما اس پر گفتگو کیلئے تیار نہیں، لیکن شاید نو منتخب وزیرِ اعظم نے اپنے



Comments...