
تیونیسیا: تیونس كے وزیر داخلہ لطفی بن جدو نے پارلیمنٹ كے اراكین كو بتایا ہے كہ تیونس کی كئی خواتین شام میں حكومت كے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں كی جنسی تسکین کے لئے شام جاتی ہیں۔
غیر ملكی میڈیا كے مطابق وزیر داخلہ نے تیونس كی قومی قانون ساز اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین شام میں 20، 30 یا 100 جنگجوؤں كے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرتی ہیں اور حاملہ ہو كر واپس تیونس آجاتی ہیں تاہم تیونسی وزیر داخلہ نے یہ نہیں بتایا كہ اس کام كے لئے كتنی خواتین شام گئیں اور حاملہ ہو كر واپس آئیں لیکن مقامی میڈیا كے مطابق ایسی خواتین كی تعداد سیكڑوں میں ہے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ تیونس سے سیكڑوں مرد بھی بشارالاسد كی حکومت كے خلاف لڑنے كے لیے شام گئے ہیں تاہم جب انہوں نے مارچ میں یہ عہدہ سنبھالا تو اس وقت سے اب تک لگ بھگ 6 ہزار لڑکوں کو شام جانے سے روکا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر نگرانی سخت كردی گئی ہے جس كے باعث لوگوں كا شام جانا مشكل ہوگیا ہے۔
Source
Videos show Iran's drone army puncturing U.S. and allied defenses
Israel trembles as Iran launches 57th wave of attacks
Satellite images of UAE's Al-Dhafra Air Base after Iranian attacks
US Aircraft Carrier USS Gerald R. Ford leaves the battle, Returns to Greece
Hollywood: Spanish film star demands end to Iran war
Massive crowd on Iran's streets for Ali Larijani funeral prayer











