Menu
Top Rated Posts ....

We will Issue a Fatwa If Javed Hashmi and Shireen Mazari Did not take their statement back about Tauheen e Risalat - Ulema

Posted By: Zia M Din, September 29, 2013 | 04:46:53




اسلام آباد(فورم رپورٹ ،عمرفاروق ،عکاسی ،اظہرعابدی )مختلف مسالک کے علماء کرام نے کہاہے کہ جاوید ہاشمی سمیت تحریک انصاف کے دیگررہنمائوں نے ناموسِ رسالت قانون کے خلاف بیان بازی کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے ۔جاوید ہاشمی ، شیریں مزاریں ودیگرقومی اسمبلی کے فلورپرمعافی مانگیں اگرتحریک انصاف کے رہنمائوں نے اپنے الفاظ واپس نہ لیے توعلماء ان کے خلاف فتوی جاری کریں گے حکومت پارلیمنٹ میں توہین رسالت قانون کے حوالے سے پالیسی بیان جاری کرے ناموس رسالت قانون میں ترمیم نہیں ہوسکتی یہ سزاقرآن وحدیث سے ثابت ہے ان خیالات کااظہارعلماء کرام نے اوصاف فورم میں اظہارخیال کرتے ہوئے کیا فورم میں مجلس اہل سنت کے چیئرمین مفتی مجیب الرحمن ،شباب اسلامی پاکستان کے چیئرمین مفتی حنیف قریشی ،مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سینئرنائب امیرعلامہ عبدالعزیزحنیف ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آبادکے سیکرٹری جنرل قاری عبدالوحیدقاسمی ، معروف مذہبی سکالرعلامہ پیر سید اظہار بخاری ودیگرنے شرکت کی مفتی مجیب الرحمن نے کہاکہ توہین رسالت قانون کسی پارلیمنٹ یافردکابنایاہواقانون نہیں بلکہ یہ اللہ اوراس کے رسول ۖۖکابنایاہواقانون ہے جس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہو سکتی اورنہ ہی کسی فردیاادارے کواختیارہے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کرے انہوں نے کہاکہ توہین رسالت کی سزانص سے ثابت ہے حضورۖنے اپنی زندگی میں گستاخان رسول کوقتل کرنے کاحکم دیا اورتوہین رسالت کاقانون شرعی حدہے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی پارلیمنٹ اس قانون میں تبدیلی کااختیارنہیں رکھتی تحریک انصاف کے رہنمائوں نے اس قانون کی مخالفت کرکے اپنااصل ایجنڈہ ظاہرکردیاہے جاویدہاشمی جیسے سینئرسیاستدان کے منہ سے اس قانون کے خلاف ہرزہ سرائی حیرت انگیزہے تحریک انصاف کی قیادت اس حوالے سے اپنی وضاحت کرے شباب اسلامی کے چیئرمین مفتی حنیف قریشی نے کہاکہ ناموسِ رسالت قانون میں ترمیم میں مطالبہ کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لیں ابھی ایک ممتاز قادری ان کو ہضم نہیں ہو رہا ہے اگر قانون میں ترمیم ہوئی تو کئی ممتاز قادری پیدا ہوں گے ۔قانون ناموسِ رسالت کے خلاف جاوید ہاشمی اور شیریں مزاری ہرزہ سرائی ایک نئے فتنے کو جنم دے رہی ہے جس کے نتائج خطرناک ہوں گے ناموسِ رسالت کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس میں تبدیلی اسی وقت ہوسکتی ہے جب کروڑوں جانوں سے کھیلنا ہوگا ۔ مسلمانوں کا بچہ بچہ اس پہ سر کٹانا باعث فخر سمجھتا ہے ناموسِ رسالت کا قانون اقلیتوں کے خلاف نہیں بلکہ گستاخوں کے خلاف اور اقلیتوں کے تحفظ کا ضامن ہے جاوید ہاشمی جیسے شخص کی طرف سے ناموسِ رسالت کے قانون کے خلاف اس طرح کا بیان ان کی ذ ہنی حالت کے مشکوک ہونے کا غماز ہے جاوید ہاشمی اور شیریں مزاری نے سلمان تاثیر ، شہباز بھٹی اور شیری رحمن والی روش اپنا لی ہے ان کے انجام سے سبق سیکھیں اور ملک و قوم کو مزید آزمائش میں نہ ڈالیں مسلمانوں کی سوچوں کا قبلہ نبی پاک ۖ کی ذات ہے امریکہ نہیں ۔ ناموسِ رسالت کا قانون ملک میں نبی علیہ السلام کی ناموس کے تحفظ اور امن و امان کا ضامن ہے جو اسلام اور ملک دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح اٹکتا ہے قومی اسمبلی جیسے بڑے فورم پر سیاست دانوں کو دینی معاملات میں بے لگام ہوکر ٹانگ اڑانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جاوید ہاشمی کے الفاظ انتہائی غلیظ اور قابل مذمت ہیں الفاظ واپس نہ لینے اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں متفقہ فتویٰ جاری کیا جائے گاجس کی تمام تر ذمہ داری جاوید ہاشمی پر ہوگی ۔عمران خان اسمبلی ممبران پر مذہبی معاملات میں بیان بازی کرنے اور ٹانگ اڑانے پر پابندی عائد کریں اس سے ان کی اپنی اور جماعت کی ساکھ شدید متاثر ہو رہی ہے مولاناعبدالعزیزحنیف نے کہاکہ ان نازک حالات میں توہین رسالت قانون جیسے حساس معاملات کوچھیڑنا ایک سازش ہے اوریہ ملک کے خلاف ایک گھنائونی سازش ہے جولوگ اس کے خلاف آوازاٹھارہے ہیں وہ غیرملکی ایجنٹ ہیں جاویدہاشمی ایک گدی نشین ہیں ان کی طرف سے اس طرح کابیان آنا قابل مذمت ہے ان کے حلقے کے عوام ان کاگھیرائوکریں اوران کابائیکاٹ کریں قاری عبدالوحیدقاسمی نے کہاکہ مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نزدیک توہین رسالت قانون قرآن وسنت سے ثابت ہے اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا پاکستان میں جوکوئی بھی حکومت آتی ہے بین الاقوامی طاقتیں ان کودوشرائط عائدکرتی ہیں ایک توہین رسات قانون میں ترمیم اوردوسرا قادیانیوں کے خلاف پارلیمنٹ کافیصلہ واپس لیاجائے توہین رسالت کاقانون بین الاقوامی قانون ،پارلیمنٹ ،عدالت اورشریعت سے ثابت شدہ ہے جنرل مشرف دورمیں اس قانون میں ترمیم کی گئی حالانکہ کسی بھی مقدمے میں ایف آئی آردرج کرانے سے قبل اتنی تحقیقات نہیں کی جاتیں جتنی توہین رسالت قانون کے مقدمے کے حوالے سے کی جاتی ہے توہین رسالت کامقدمہ درج کرانے کے لیے ایس پی لیول کاافسرتحقیق کرتاہے اس کے باوجودیہ پروپیگنڈہ کہ اس قانون کاغلط استعمال ہورہاہے یہ ایک سازش ہے چیف جسٹس اس کے خلاف نوٹس لیں پیراظہاربخاری نے کہاکہ ناموس رسالت قانون میں نہ ترمیم کرنے دیں گے نہ تحریف کرنے دیں گے گستاخ رسول اس ایشوزکوچھیڑیں گے تووہ اپنی موت کودعوت دیں گے ناموس رسالت قانون کی عیسائی بھی مخالفت نہیں کرتے صرف قادیانی اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں اورسازشوں میں مصروف ہیں توہین عدالت پرتوسوموٹوہوجاتاہے مگرتوہین رسالت پرکوئی نوٹس نہیں لیتا حکومت اسمبلی کے فلورپراس حوالے سے وضاحت کرے اورقوم کومطمئن کرے



Source



Comments...