Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
New CCTV footage shows Trump dinner gunman storming through the security New CCTV footage shows Trump dinner gunman storming through the security Jemima Goldsmith quietly got engaged, wedding expected soon Jemima Goldsmith quietly got engaged, wedding expected soon Iranian President reaches out to the public without protocol, A citizen hugs the President Iranian President reaches out to the public without protocol, A citizen hugs the President 21 passengers offloaded at Karachi Airport on Bahrain flight 21 passengers offloaded at Karachi Airport on Bahrain flight Unusual US military aircraft movements seen in the Middle East Unusual US military aircraft movements seen in the Middle East Iran submits latest proposal to Pakistani mediators for negotiations with US Iran submits latest proposal to Pakistani mediators for negotiations with US



سپریم کورٹ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ لوڈ شیڈنگ بحران کی سماعت کررہا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ازخود بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیسے کرسکتی ہے؟ قیمتوں میں اضافے کا اختیار تو نیپرا کے پاس ہے۔
سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل عتیق شاہ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے بجلی کے ٹیرف میں کمی کی درخواست کی گئی تھی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل کے اس جواب پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر کمپنیوں کی جانب سے کمی کا کہا گیا تھا تو پھر اضافہ کس نے کیا؟ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ یہ اضافہ حکومت پاکستان کی جانب سے کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ دنیا بھرمیں فیول کی قیمتیں کم ہوئی آپ نے فیول سے بننے والی بجلی کی قیمتیں بڑھادیں۔ اس دوران 441 ارب روپے کی ریکوری کی بات بھی زیر غور آئی جس پر عدالت نے کہاکہ حکومت ٹیرف میں اضافہ کررہی ہے جب کہ 441 ارب روپے کی ریکوری کے حوالے سے کچھ نہیں کررہی، حکومت نے جہاں سے پیسہ لینا ہے وہاں سے لے، غریب عوام پر بوجھ نہ ڈالے۔
چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا جائے۔ ملک میں آئین اور قانون پر عمل درآمد ہوگا نادر شاہی نظام نہیں چلے گا، ہم آج کے تمام کیسز برخاست کرکے صرف اس کیس کو سنیں گے۔


Source





Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...