Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Iranian origin and Swedish female minister attends meeting with 3 months child Iranian origin and Swedish female minister attends meeting with 3 months child DPO Sargodha tells details of minor girl murder case in grocery store DPO Sargodha tells details of minor girl murder case in grocery store Death toll rises to 235 as Venezuela earthquake causes massive devastation Death toll rises to 235 as Venezuela earthquake causes massive devastation Iran's retaliation strikes on US installations in Bahrain and Kuwait Iran's retaliation strikes on US installations in Bahrain and Kuwait Japanese ambassador in Bahrain prepares 'Niaz' for Ashura Japanese ambassador in Bahrain prepares 'Niaz' for Ashura US attack will be met with a more severe and comprehensive response - IRGC US attack will be met with a more severe and comprehensive response - IRGC



تہران: ایرانی پارلیمنٹ نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کا ایک بل پاس کیا ہے، جس میں شامل ایک شق کے تحت کوئی بھی شخص 13 سال کی عمر میں اپنی لے پالک بیٹی کے ساتھ شادی کرسکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کا یہ بل گزشتہ ماہ پیش کیا گیا تھا۔ بل کے مطابق کوئی بھی شخص اپنی لے پالک بیٹی سے شادی کرسکتا ہے اگر عدالت یہ حکم دے کہ ایسا کرنا اس بچی کے مفاد میں ہے۔ ایران کے مذہبی علماء اور مذہبی فقہ کے ماہرین پر مشتمل سرپرست کونسل کے سامنے تمام پارلیمانی بلز آئین اور اسلامی قوانین کا حصہ بنانے سے قبل پیش کیے جاتے ہیں، تاہم اس کونسل نے ابھی تک اس قانون سازی پر اپنا فیصلہ نہیں دیا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایرانی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے اس بل کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ ایران میں انصاف فراہم کرنے والی ایک برطانوی تنظیم کے رکن شادی صدر نے برطانوی اخبار کو بتایا ہے کہ انہیں خوف ہے کہ ایرانی سرپرست کونسل اس بل کی منظوری دے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ لے پالک بچوں کے ساتھ شادی کرنا ایران کی ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔ یہ بل بچوں کے ساتھ جنسی تعلق کو قانون کا حصہ بنا کر ہمارے بچوں کی معصومیت کو خطرے میں ڈال دے گا، اور یہ جرم ہمارے ملک کی ثقافت کا حصہ بن جائے گا۔


Source



Comments...