
ممبئی: بھارتی عدالت نے ایک مقدمے میں بیوی کی جانب سے اپنی گھریلو ذمہ داریاں انجام دینے کے بجائے نوکرانی رکھنے کے ئے دباؤ ڈالنے پر شوہر کو اسے طلاق دینے کا اختیار دے دیا۔
ممبئی کی ایک فیملی کورٹ نے ایک شخص کی جانب سے دائر طلاق کی درخواست کی سماعت کی ، شوہر کا کہنا تھا کہ اس کی بیوی انتہائی سست ہے شادی کو 20 برس گزر جانے کے باوجود وہ گھر کے کام کاج میں بالکل توجہ نہیں دیتی، پہلے وہ اپنے والدین کے ساتھ مشترکہ طور پر رہتے تھے جہاں اس کی والدہ ضعیف ہونے کے باوجود گھر کا سارا کام کرتی تھی، روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر اس نے علیحدہ رہنا شروع کردیا تاہم اس پر بھی اس کی بیوی راہ راست پر پر نہ آئی۔شوہرکا کہنا تھا کہ دو جوان بچوں کے باوجود وہ گھر میں نوکرانی رکھنے کے لئے لڑائی جھگڑے اور عزیز و اقارب کے سامنے اس کی بے عزتی کرتی تھی ،اس کے باوجود وہ برداشت کرتا رہا لیکن گزشتہ کئی ماہ سے وہ صرف نوکرانی نہ رکھنے کے باعث اپنے میکے چلی گئی ہے، اس لئے وہ عدالت سے درخواست کرتا ہے کہ اسے طلاق دینے کا حق دیا جائے۔
عدالت نے درخواست کی سماعت کے دوران بیوی کو طلب کیا لیکن عدم حاضری پر اس نے شوہر کو طلاق دینے کا حق دیتے ہوئے قرار دیا کہ جو بیوی اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرے اس کا شوہر قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد اسے یکطرفہ طور طلاق دے سکتا ہے۔
Source
New CCTV footage shows Trump dinner gunman storming through the security
Iranian President reaches out to the public without protocol, A citizen hugs the President
Jemima Goldsmith quietly got engaged, wedding expected soon
21 passengers offloaded at Karachi Airport on Bahrain flight
Unusual US military aircraft movements seen in the Middle East
Iran submits latest proposal to Pakistani mediators for negotiations with US












