اسلام آباد: سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں قرار دیا ہے کہ آئی ایس آئی کی گزشتہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے کسی مفروضے یا بیان پر یقین نہیں کریں گے، لاپتہ افراد کی بازیابی نہ ہونا بادی النظر میں ریاست کی ناکامی ہے۔
حساس اداروں کی ساکھ انکے اعمال کے باعث مشکوک ہوچکی، حکومت سے بہت امیدیں تھیں مگر وہ بھی بے بس لگتی ہے۔ جو مومینٹم پیدا ہورہا ہے اس سے حالات اور خراب ہوں گے، مجرموں کو رہا کرنے نہیں بیٹھے مگر لاپتہ افراد کا جرم تو بتایا جائے۔جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے بتایا کہ ظہیر مظفر کیانی کے کیس میں کسی ایجنسی کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا جبکہ حافظ جمیل کے معاملے میں پولیس کو مزید وقت چاہئے، تاثر مل رہا ہے کہ آئی ایس آئی ملوث ہے لیکن ابھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا، جسٹس جمالی نے ریمارکس دیے کہ یہ مسئلہ مئی سے چل رہا ہے، اب تک پیشرفت ہونی چاہیے تھی ۔
اگر کوئی فرد ملوث ہے تو چالان پیش کیا جائے تاکہ کارروائی کی جاسکے، ہر ادارے کی ساکھ ہوتی ہے، اگر ایک دفعہ وہ متاثر ہو جائے تو دوبارہ بحال نہیں ہوتی، عدالت آئی ایس آئی کی گزشتہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی مفروضے یا بیان پر یقین نہیں کرے گی۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت لاپتہ افراد کے مقدمات میں بڑی کشمکش سے گزر رہی ہے، اس وقت تک کوئی حکم نہیں دیں گے جب تک کسی فرد کے ملوث ہونے کی حتمی رپورٹ نہیں آتی۔ دریں اثنا لاپتہ تاصیف ملک کے مقدمے میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فیصل ملک نے چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بنچ کو بتایا کہ ملٹری انٹیلی جنس کی جانب سے جواب آگیا ہے کہ ان کے پاس میجر حیدرنام کا کوئی افسر نہیں ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ خفیہ اداروں میں اصلی نام ظاہر نہیں کئے جاتے۔
Source
Videos show Iran's drone army puncturing U.S. and allied defenses
Israel trembles as Iran launches 57th wave of attacks
Satellite images of UAE's Al-Dhafra Air Base after Iranian attacks
US Aircraft Carrier USS Gerald R. Ford leaves the battle, Returns to Greece
Hollywood: Spanish film star demands end to Iran war
Massive crowd on Iran's streets for Ali Larijani funeral prayer











