لاہور: پنجاب حکومت نے بجٹ سے قبل ہی شادی ہالوں پر ساڑھے 16 فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے جب کہ اس سے قبل وفاقی بجٹ میں بھی شادی ہالز پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا جاچکا ہے اوران تمام ٹیکسوں کا بوجھ بالاآخر شہریوں کو ہی برادشت کرنا پڑے گا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے نئے لگائے جانے والے ٹیکسوں سے تو شادی ہال ملکان اور شہری پریشان میں مبتلا تو تھے ہی کے اچانک محکمہ ایکسائز نے تمام شادی ہال کو کرایہ دار کیٹیگری میں شامل کر کے پراپرٹی ٹیکس میں 6 گنا اضافہ کر دیا جس سے شادی ہال مالکان کی تو نیندیں ہی اڑ گئی ہیں جبکہ اعدود شمار کے مطابق اب کوئی بھی شادی کرنے کا خواشمند شخص ایک لاکھ روپے تک کا شادی ہال بک کرائے گا تو اسے ٹیکس کی صورت میں 27 ہزار روپے زائد ادا کرنے پڑیں گے۔
میرج ہالز ایسو ی ایشن کے صدر میاں الیاس کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ شہری پہلے ہی شادی ہال بک کراتے وقت پیسوں میں کمی بیشی کراتے ہیں وہ کہاں سے یہ ٹیکس ادا کرپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب گلیوں اور سڑکوں پر ہی ٹینٹ لگا کر شادی بیاہ کی تقریبات منعقد ہوا کریں گی لہٰذا ہم ایسے تمام ٹکیسز کو مسترد کرتے ہیں۔
'This Is Kashmir, Not Kashmore' - Nawaz Sharif takes aim at Bilawal in Mirpur
CCTV Footage: State Bank of India's manager slapped by ex minister's daughter
Kuwait has approved a defence cooperation agreement with Pakistan - Arab Media
London police foiled terror plots targeting two mosques, arrested 14 years young boy
How student's protest turned violent in Delhi? Why Delhi Police Commissioner suddenly removed? Modi's state exposed
EU slaps Google with $1 billion fine: What did the tech giant do wrong?











