Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Donald Trump refused to leave stage during World Cup trophy lift, See what FIFA president did with him? Donald Trump refused to leave stage during World Cup trophy lift, See what FIFA president did with him? Iran accuses US of strike on Iran’s Darkhovin nuclear power plant Iran accuses US of strike on Iran’s Darkhovin nuclear power plant Chairman PTI's sister Noreen Niazi faces backlash over shameful remarks against Pak Army & Marka e Haq Chairman PTI's sister Noreen Niazi faces backlash over shameful remarks against Pak Army & Marka e Haq Bilawal Bhutto says Khawaja Asif should be removed from the cabinet if… Bilawal Bhutto says Khawaja Asif should be removed from the cabinet if… Iran launches major missile strike on U.S. Bases in Saudi Arabia Iran launches major missile strike on U.S. Bases in Saudi Arabia Profit rates revised for National Savings Schemes in Pakistan Profit rates revised for National Savings Schemes in Pakistan



ناروے کی ایک خاتون نے دبئی میں اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے واقعے کی رپورٹ کرنے کی وجہ سے ملنے والی 16 ماہ کی قید کی سزا کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
انٹیریئر ڈزائنر مارتے ڈیبرا دالیلو کا کہنا ہے کہ وہ دبئی ایک بزنس دورے پر تھیں جب ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔
24 سالہ خاتون نے مارچ میں ہونے والے اس واقعے کے بارے میں جب انھوں نے پولیس کو بتایا تو ان پر غیر ازدواجی روابط رکھنے، شراب نوشی اور جھوٹا الزام لگانے کی فردِ جرم عائد کر دی گئی۔
اس ہفتے کے آغاز میں انھیں ان الزامات میں مجرم پایا گیا ہے تاہم وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جس کی سماعت ستمبر میں ہوگی۔
مارتے ڈیبرا دالیلو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں بہت پریشان ہوں۔ میں بہتری کی امید رکھتی ہوں اور ایک وقت میں صرف ایک دن کا سوچتی ہوں۔‘
اس کیس کی وجہ سے ناروے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں شدید ناخوش ہیں۔
ڈیبرا دالیلو کا کہنا ہے کہ چھ مارچ کو وہ چند ساتھیوں کے ساتھ رات کو باہر گئی ہوئی تھیں جب ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔
جب انھوں نے یہ بات پولیس کو بتائی تو پولیس نے اُن کا پاسپورٹ اور ان کے پیسے ضبط کر لیے۔ چار روز بعد ان پر غیر ازدواجی روابط رکھنے، شراب نوشی اور جھوٹا الزام لگانے کی فردِ جرم عائد کر دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس شخص نے ان پر حملہ کیا اسے غیر ازدواجی روابط رکھنے اور شراب نوشی کے جرم میں تیرہ ماہ کی سزا سنائی گئی ہے۔
ناروے کی حکومت نے ڈیبرا دالیلو کی مشروط رہائی کا انتظام کیا ہے اور اسی لیے وہ فردِ جرم عائد ہونے سے اب تک دبئی میں ناروے کے سیمین سنٹر میں مقیم ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ منگل کو سنائی گئی سزا کے بعد اب وہ باضابطہ طور ہر دبئی کے حکام کو مطلوب ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’مجھے منگل کو حراست میں لیا جانا تھا تاہم مجھے بتایا گیا ہے وہ مجھے تلاش نہیں کر رہے۔‘
ناروے کے وزیرِ خارجہ نے اس عدالتی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ناروے کے حکام دبئی میں حکام سے اس کیس کے بارے سے رابطے کر رہے ہیں۔
لندن میں موجود ایمریٹس سنٹر فار ہیومن رائٹس نے متحدہ امارات کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس سزا ختم کر دیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں جنسی تشدد کے واقعات میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
موجودہ قوانین کے مطابق دبئی میں جنسی زیادتی کی سزا اُس صورت میں دی جا سکتی ہے جب کہ الزام لگانے والا یا والی چار مرد گواہ پیش کریں یا پھر ملزم خود اقبالِ جرم کر لے۔


Source: BBC News


Comments...