Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Tweet from Iranian delegation leader Baqir Qalibaf after the talks Tweet from Iranian delegation leader Baqir Qalibaf after the talks Absar Alam shares the latest updates of talks between US and Iran's delegations in Islamabad Absar Alam shares the latest updates of talks between US and Iran's delegations in Islamabad Islamabad: US Vice President JD Vance's media briefing after completing talks with Iran Islamabad: US Vice President JD Vance's media briefing after completing talks with Iran Breaking News: US delegation led by JD Vance reached Pakistan Breaking News: US delegation led by JD Vance reached Pakistan Talat Hussain tells why is President Trump in hurry for peace talks? Talat Hussain tells why is President Trump in hurry for peace talks? US Vice President JD Vance departs to the United States after negotiations US Vice President JD Vance departs to the United States after negotiations

Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US

Posted By: Zahid, April 07, 2026 | 16:07:07

Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت ترین حملے کی دھمکی دی ہے جس سے کچھ لوگ شبہ ظاہر کررہے ہیں کہ امریکہ شاید ایران پر نیوکلیئر اٹیک کردے، اس پر صحافی مبشر زیدی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا

صدر ٹرمپ ایران کو مسلسل خطرناک نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کی دی ہوئی ڈیڈلائن آج رات امریکی وقت کے مطابق آٹھ بجے ختم ہوجائے گی۔ بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا ایران پر ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار سے حملہ کرسکتا ہے۔
ٹیکٹیکل اور اسٹریٹیجک جوہری ہتھیاروں میں کافی فرق ہوتا ہے۔ اس کی تکنیکی تفصیلات عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آسکتیں۔ سادہ زبان میں یوں سمجھ لیں کہ اسٹریٹیجک ایٹمی ہتھیار بڑے شہر کی دسیوں لاکھ کی آبادی اور اس کے انفرااسسٹرکچر کو تباہ کرسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار صرف مختصر دائرے میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ہے۔
300 کلوگرام سے دس کلو ٹن [10 ہزار کلوگرام] تک کا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کیا جائے تو نصف میل تک شدید تباہی ہوسکتی ہے۔ ایک میل تک ابتدائی مہلک تابکاری خوراک کو جان لیوا کرسکتی ہے۔ ڈیڑھ میل تک شدید حرارت پہنچ سکتی ہے۔ مزید تین میل تک خطرناک نقصانات ہوسکتے ہیں۔ ہوا کے ساتھ تابکاری اثرات دس میل یا اس سے بھی آگے تک جاسکتی ہیں۔
یہ بھی سخت نقصانات ہیں لیکن بہرحال اتنے زیادہ نہیں جو اسٹریٹیجک جوہری ہتھیار سے ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ ہیروشیما پر پھینکا جانے والا ایٹم بم 15 کلوٹن کا تھا۔ آج کے حساب سے اسے ٹیکٹیکل سمجھا جائے گا کیونکہ اب 100 ٹن سے زیادہ کے اسٹریٹیجک جوہری ہتھیار بھی موجود ہیں۔
ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کو جنگی طیارے یا چھوٹے میزائل سے پھینکا جاسکتا ہے۔
امریکا کے پاس 3700 ایٹمی ہتھیار ہیں۔ ان میں سے 200 "بی 261" ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار ہیں۔
امریکا کے پاس W76-2 نام کا کم طاقت والا وارہیڈ بھی ہے، جس کی طاقت تقریباً 8 کلوٹن ہے۔ یہ اندازاً 25 سے زیادہ نہیں بنائے گئے۔ لیکن یہ آبدوز سے داغے جانے والے اسٹریٹجک میزائل پر نصب کیا جاتا ہے۔ اسے ٹیکٹیکل کے بجائے low-yiel کہا جاتا ہے۔
ایسے واقعے میں بڑا مسئلہ صرف ابتدائی دھماکا نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد وسیع پیمانے پر ایمرجنسی رسپانس کی ناکامی، آگ، ملبہ، طبی نظام پر فوری بوجھ اور تابکار فال آؤٹ بھی ہوتا ہے۔ شہری ماحول میں جوہری دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل ہوسکتی ہیں۔
جوہری حملے کے نتائج برسوں تک رہ سکتے ہیں، جن میں تابکاری سے لاحق بیماریاں، نفسیاتی صدمہ اور بنیادی ڈھانچے کی طویل تباہی شامل ہیں۔







Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...